National

آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما کا متنازعہ بیان، ایس آئی آر میں 4 سے 5 لاکھ ’میاں‘ ووٹروں کے اخراج کا دعویٰ

آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما کا متنازعہ بیان، ایس آئی آر میں 4 سے 5 لاکھ ’میاں‘ ووٹروں کے اخراج کا دعویٰ

گوہاٹی : آسام میں 2026 کے اسمبلی انتخابات سے قبل ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظرثانی (اسپیشل انٹینسیو ریویژن – ایس آئی آر) کے دوران بڑے پیمانے پر ووٹروں کے اخراج سے متعلق وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما کے بیانات نے ریاستی سیاست میں شدید ہلچل مچا دی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس عمل کے دوران 4 سے 5 لاکھ ’ِمیاں‘ ووٹروں کے نام فہرست سے خارج کیے جائیں گے۔ واضح رہے کہ ’میاں‘ ایک متنازع اور توہین آمیز اصطلاح ہے جو آسام میں بنگلہ بولنے والے مسلمانوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ منگل کے روز گوہاٹی اور ڈگبوئی میں خطاب کے دوران وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے اقلیتی ’میاں‘ ووٹروں کے خلاف کارروائی کی ہدایات خود دی ہیں، جسے وہ ’’مقامی آسامی عوام کے تحفظ‘‘ کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں۔ گوہاٹی میں گفتگو کرتے ہوئے ہمنتا بسوا سرما نے ووٹر لسٹ میں اعتراض کے لیے استعمال ہونے والے فارم 7 جمع کرانے کی ذمہ داری بھی قبول کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی کارکنوں کو زیادہ سے زیادہ شکایات درج کرنے کی ہدایت انہی کے حکم پر دی گئی۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق اس مہم کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ آسامی برادری اب بھی ’’زندہ اور چوکس‘‘ ہے۔ بیان بازی اس وقت مزید متنازع ہو گئی جب وزیر اعلیٰ نے روزمرہ زندگی میں معاشی دباؤ ڈالنے جیسے تبصرے بھی کیے، جس پر سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید ردِعمل سامنے آیا۔ بعد ازاں ڈگبوئی میں ایک تقریب کے دوران انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ آئندہ خصوصی نظرثانی کے عمل میں لاکھوں ’میاں‘ ووٹروں کے نام خارج کیے جائیں گے۔ اپوزیشن جماعتوں کی تنقید پر ردِعمل دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے سخت مؤقف اپنایا اور کہا کہ موجودہ نظرثانی ابتدائی مرحلہ ہے لیکن آگے چل کر یہ فیصلہ کن ثابت ہوگی۔ ان بیانات کے بعد کانگریس، رائیجور دل، آسام جاتیہ پریشد اور بائیں بازو کی جماعتوں نے بی جے پی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سرکاری مشینری کو استعمال کر کے اقلیتی شہریوں کے ووٹنگ حقوق متاثر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان جماعتوں نے اس معاملے میں متعدد ایف آئی آرز بھی درج کرائی ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments