آتش بازی کے زور پر قابو پانے کے لیے نبانہ کا پانچ سطحی نگرانی کا فیصلہ، غیر قانونی کاروبار کے خلاف داخلہ سکریٹری کی سخت وارننگ
دیوالی کے موقع پر رات 8 بجے سے 10 بجے تک اور چھٹھ پوجا کے موقع پر صبح 6 بجے سے 8 بجے تک پٹاخے جلانے کی اجازت ہوگی۔ عدالت کے حکم کے مطابق، اسی مقررہ وقت کے اندر پٹاخے جلانے ہوں گے۔ بصورت دیگر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی آلودگی کم کرنے کے لیے ریاستی حکومت نے صرف ماحول دوست سبز پٹاخوں کے استعمال کی اپیل کی ہے۔ انتظامیہ نے یہ بھی بتایا ہے کہ پٹاخوں کی تیاری، ذخیرہ اندوزی، نقل و حمل، فروخت اور استعمال کے ہر مرحلے پر نگرانی کی جائے گی۔
جمعرات کو نبانہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ریاست کی داخلہ سکریٹری سنگھ مترا گھوش نے یہ پیغام دیا۔ اس موقع پر ریاستی پولیس کے ڈی جی سدھ ناتھ گپتا، کولکاتا کے پولیس کمشنر اجے نندا اور فائر بریگیڈ و محکمہ ماحولیات کے افسران بھی موجود تھے۔ آتش بازی پر پانچ مرحلوں میں نگرانی کرنے کا اعلان کیا گیا۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کردیا گیا کہ غیر قانونی پٹاخوں کے کاروبار کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی
داخلہ سکریٹری کے مطابق، پٹاخے جلانے سے ہونے والی فضائی اور صوتی آلودگی کا اثر صرف دوسروں پر ہی نہیں پڑتا، بلکہ پٹاخے جلانے والے شخص کے اہل خانہ کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کو زیادہ پریشانی ہوتی ہے۔ اسی لیے حکومت نے صرف انتظامی نگرانی یا قانون کے نفاذ پر انحصار کرنے کے بجائے عام لوگوں میں بیداری بڑھانے پر بھی زور دیا ہے۔
سنگھ مترا نے کہا کہ تہوار کی خوشی کے نام پر دوسروں کو نقصان نہیں پہنچایا جاسکتا۔ لوگوں کی سوچ میں تبدیلی ضروری ہے۔ عدالت کے حکم کے مطابق دیوالی کے موقع پر رات 8 بجے سے 10 بجے تک اور چھٹھ پوجا کے موقع پر صبح 6 بجے سے 8 بجے تک پٹاخے جلائے جاسکتے ہیں۔ مقررہ وقت سے پہلے یا بعد میں پٹاخے جلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ داخلہ سکریٹری نے بتایا کہ چھٹھ پوجا کے معاملے میں پوجا کے اوقات کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے یہ وقت مقرر کیا ہے۔ ان کے مطابق، عدالت کے حکم پر عمل کرنا لازمی ہے اور اس معاملے میں انتظامیہ کی جانب سے کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔
ریاستی حکومت نے آواز کی شدت کے معاملے میں بھی احتیاط برتنے کی ہدایت دی ہے۔ داخلہ سکریٹری نے بتایا کہ صوتی پٹاخوں کے لیے آواز کی زیادہ سے زیادہ حد 125 ڈیسیبل ہے، جبکہ روشنی والے پٹاخوں کی آواز کی شدت 90 ڈیسیبل کے اندر رکھنی ہوگی۔
ان کا دعویٰ ہے کہ منظور شدہ سبز پٹاخوں کے استعمال سے آلودگی کم کرنے کے ساتھ ساتھ مقررہ ضابطوں پر عمل کرنا بھی آسان ہوگا۔ سبز پٹاخوں میں نقصان دہ کیمیکلز کا استعمال اور باریک دھول کے ذرات کا اخراج نسبتاً کم ہوتا ہے۔ اسی لیے انتظامیہ نے عام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دوسرے پٹاخوں کے بجائے منظور شدہ سبز پٹاخے خریدیں۔
اس کے علاوہ اسپتالوں، نرسنگ ہومز، اسکولوں اور اولڈ ایج ہومز کے 100 میٹر کے دائرے میں پٹاخے نہ جلانے کی اپیل کی گئی ہے۔ پوجا کمیٹیوں، رہائشی سوسائٹیوں اور عام شہریوں کو ان خاموش علاقوں کے تحفظ کے حوالے سے محتاط رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
پٹاخوں کی منڈیوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے میونسپل کارپوریشن، پولیس اور فائر بریگیڈ مشترکہ طور پر کام کریں گے۔ انتظامیہ نے آبادی سے دور مخصوص مقامات پر منڈیاں لگانے، دکانوں کے درمیان مناسب فاصلہ رکھنے اور آگ بجھانے کے انتظامات کے ساتھ ایمبولینس کی سہولت فراہم کرنے پر زور دیا ہے۔
آتش بازی کے زور پر قابو پانے کے لیے نبانہ کا پانچ سطحی نگرانی کا فیصلہ، غیر قانونی کاروبار کے خلاف داخلہ سکریٹری کی سخت وارننگ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments