مہوا موئترانے مسلم افسران کو نظرانداز کیے جانے پر اقوام متحدہ سے رجوع کیا
ترنمول کانگریس کی کرشن نگر کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے جمعرات کو اقلیتی امور سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کو خط لکھا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ جولائی اور اگست میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے بنگال دوروں کے دوران ”بنگال کے سینئر مسلم آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران“ کو سرکاری میٹنگوں اور پروٹوکول کی ذمہ داریوں سے ”منظم طریقے سے الگ رکھا گیا“۔
رکن پارلیمنٹ نے 16 ستمبر کو اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر میں اقلیتی امور کے خصوصی نمائندے نکولس لیورات کو خط لکھا تھا۔ موئترا نے الزام لگایا کہ ان افسران کو ان کی مذہبی شناخت کی وجہ سے سرکاری امور سے دور رکھا گیا۔
مہوا موئترا نے اپنے رکن پارلیمنٹ کے لیٹر ہیڈ پر لکھا گیا یہ خط اپنے ایکس ہینڈل پر بھی شیئر کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تین سینئر افسران—سید وقار رضا (آئی پی ایس)، جاوید شمیم (آئی پی ایس) اور خلیل احمد (آئی اے ایس)—کو امت شاہ کے دوروں کے دوران سرکاری پروگراموں سے چلے جانے یا ان میں شرکت نہ کرنے کے لیے کہا گیا۔موئترا نے خط میں کہا، ”ان تینوں افسران میں جو ایک بات مشترک ہے، اور جو بات انہیں ان ساتھی افسران سے الگ کرتی ہے جنہیں وہاں رہنے کی اجازت دی گئی، وہ ان کا مذہب ہے۔“
موئترا کے خط میں الزام لگایا گیا کہ اس طرح کسی کو الگ رکھنا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے 10 دسمبر 1948 کو منظور کیے گئے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے اور شہری و سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ بھارت ان 48 ممالک میں شامل تھا جنہوں نے اس کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ انہوں نے مزید لکھا کہ یہ بھارتی آئین کی دفعات 14، 15، 16، 21 اور 25 کی بھی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے سے اپیل کی کہ وہ نریندر مودی حکومت سے اس معاملے پر وضاحت طلب کریں۔مہوا موئترا نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ان دوروں سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج، دورے کی ڈائریاں اور دیگر ریکارڈ محفوظ رکھے جائیں۔ یہ الزامات امت شاہ کے 17 سے 19 جولائی اور 20 سے 22 اگست کے دوران بنگال کے دوروں سے متعلق ہیں۔موئترا کے خط کے مطابق، پہلا واقعہ 18 جولائی کو سلی گوڑی میں سرحدی سکیورٹی کے جائزہ اجلاس کے دوران پیش آیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سلی گوڑی پولیس کمشنریٹ کے کمشنر رضا کو پولیس کے ڈائریکٹر جنرل اور انسپکٹر جنرل آف پولیس سدھ ناتھ گپتا نے میٹنگ سے چلے جانے کے لیے کہا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ شاہ کے استقبال اور رخصتی کے پروٹوکول میں بھی رضا کو شامل نہیں کیا گیا۔ ان کی جگہ شمالی بنگال کے انسپکٹر جنرل آف پولیس س±کیش کمار جین کو ذمہ داری دی گئی۔رکن پارلیمنٹ نے الزام لگایا کہ اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس جاوید شمیم کو سلی گوڑی کے جائزہ اجلاس میں شرکت نہ کرنے کے لیے کہا گیا۔ ان کے ماتحت ایس ٹی ایف کے انسپکٹر جنرل آف پولیس گورو شرما اجلاس میں موجود تھے۔19 جولائی کو کولکاتا میں امت شاہ کی صدارت میں ہونے والی امن و امان اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری سے متعلق میٹنگ میں فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری خلیل احمد کے پہنچنے کے بعد انہیں واپس جانے کے لیے کہا گیا، موئترا نے ایسا الزام لگایا۔ جاوید شمیم کو بھی میٹنگ میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی اور ایس ٹی ایف کی نمائندگی گورو شرما نے کی۔موئترا کے مطابق، امت شاہ کے دوسرے دورے کے دوران بھی یہی صورت حال دوبارہ سامنے آئی۔ 20 اگست کو سلی گوڑی میں ہونے والے سرحدی سکیورٹی جائزہ اجلاس میں رضا کو شرکت نہ کرنے کے لیے کہا گیا، جبکہ س±کیش کمار جین اور دارجلنگ کے ضلع مجسٹریٹ ہری شنکر پینیکر کو مرکزی وزیر داخلہ کے استقبال اور رخصتی کے لیے تعینات کیا گیا۔
نئے فوجداری قوانین سے متعلق ایک نمائش میں بھی جاوید شمیم کو مبینہ طور پر شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔ ایک بار پھر ایس ٹی ایف کی نمائندگی گورو شرما نے کی۔رکن پارلیمنٹ نے اپنے الزامات کو اقلیتوں کی سکیورٹی کے سوال سے جوڑتے ہوئے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ کے عہدے کو دیکھتے ہوئے مذہبی امتیاز کا کوئی بھی تاثر خاص طور پر اہم نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
خط میں کہا گیا کہ مرکزی وزارت داخلہ بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف)، سشستر سیما بل (ایس ایس بی)، سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) اور انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) سمیت کئی اہم ایجنسیوں کی نگرانی کرتی ہے۔2011 کی مردم شماری کا حوالہ دیتے ہوئے موئترا نے کہا کہ بنگال کی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد 27.01 فیصد، یعنی تقریباً 2.47 کروڑ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرشدآباد، مالدہ اور شمالی دیناج پور سمیت کئی سرحدی اضلاع میں مسلمان اکثریت یا تقریباً اکثریتی آبادی رکھتے ہیں۔
انہوں نے دلیل دی کہ سکیورٹی کے نظام میں مذہبی بنیاد پر کسی کو الگ رکھنے کا کوئی بھی تاثر قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی غیر جانب داری پر اقلیتی برادری کے اعتماد کو کمزور کر سکتا ہے اور لوگوں کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر نگرانی یا امتیازی سلوک کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔
مہوا موئترانے مسلم افسران کو نظرانداز کیے جانے پر اقوام متحدہ سے رجوع کیا...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments