ہندو گھر کی درگا مورتی کے وسرجن کی ذمہ داری مسلمانوں پر، مہاششٹھی کی رسم نہیں ہوتی
ہندو، مسلمان کی تفریق نہیں۔ ندیہ کے چاپڑا کے سٹیا کے برہما خاندان کی درگا پوجا حقیقی معنوں میں سیکولر روایت کی مثال ہے۔ ہندو گھر کی درگا مورتی کے وسرجن کی ذمہ داری مسلمانوں کی ہے۔ یہاں مہاششٹھی کی رسومات نہیں ہوتیں۔ پوجا مہاسپتمی سے شروع ہوتی ہے۔ مورتی میں بھی ایک خاص بات ہے۔ وقت کے ساتھ آس پاس کا ماحول بدل گیا، لیکن رسم و رواج آج بھی نہیں بدلے۔
خاندان کے ذرائع کے مطابق، تقریباً 270 سال پہلے برہما خاندان کے زمیندار لکشمی کانت برہما نے اس پوجا کا آغاز کیا تھا۔ اس وقت بنگال کے نواب مرشد قلی خان تھے۔ برہما خاندان کا بنیادی کاروبار دھاگے کا تھا۔ اسی کاروبار کی وجہ سے گاوں کا نام ’سوتیا‘ پڑا، جو بعد میں ’سٹیا‘ کے نام سے مشہور ہوا۔
پوجا کے آغاز کی کہانی بھی خاصی منفرد ہے۔ ششٹھی کے دن لگان ادا کرنے کے لیے لکشمی کانت برہما جلنگی ندی کے راستے کشتی سے کرشن نگر کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ بڑے آندولیا گھاٹ سے کشتی پر سوار ہونے کے بعد وہ سو گئے۔ جب کشتی ناکاشی پاڑہ کے موٹا بہیر گچھے گھاٹ پہنچی، تو خواب میں انہوں نے آواز سنی— ”قریب کے کاش کے جنگل میں میں پڑی ہوں، مجھے گھر لے جاکر نصب کرو۔“
ہندو گھر کی درگا مورتی کے وسرجن کی ذمہ داری مسلمانوں پر، مہاششٹھی کی رسم نہیں ہوتی...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments