سندر بن کے دماغی موت کے مریض کااعضاءنہیں لیا جا سکا
گزشتہ بدھ کو کلکتہ کے ک±لتَلی کے بِدیا ندی سے متصل کالی بِیرا کے چر پر بھائیوں کے ساتھ مچھلی پکڑنے گئے تھے ک±لتَلی کے مَی پِیٹھ علاقے کے رہائشی اجیت ملا (36)۔ بادابن میں مچھلی پکڑنے کا جال ندی کے چر میں پھنس گیا تو اجیت اور اس کے ساتھی اسے چھڑانے کی کوشش کرنے لگے۔ اسی کام میں مصروف تھے کہ اچانک اجیت پر رائل بنگال ٹائیگر جھپٹ پڑا۔ شیر کے پنجے سے چھڑانے کے لیے اجیت کے بھائیوں نے لاٹھیاں ہاتھ میں لے کر مزاحمت کی۔ اجتماعی مزاحمت کی وجہ سے شیر اجیت کو جنگل میں گھسیٹ کر نہ لے جا سکا۔
شدید زخمی حالت میں پہلے گاو¿ں کے ہسپتال، بعد میں وہاں سے انہیں ایس ایس کے ایم کے ٹراما کیئر میں منتقل کیا گیا۔ ایس ایس کے ایم ذرائع کے مطابق، دماغ پر شدید چوٹ کے ساتھ نوجوان کی گردن کی ہڈی بھی ٹوٹ گئی تھی۔ ہسپتال میں داخلے کے پانچ دن بعد ڈاکٹروں نے ورثا کو بتا دیا کہ اجیت کی دماغی موت (برین ڈیڈ) ہو گئی ہے۔ اسی کے بعد اعضا عطیہ کرنے کے لیے ورثا کو سمجھانے کا کام ’ریجنل آرگن اینڈ ٹِشو ٹرانسپلانٹ آرگنائزیشن‘ (روٹو) کے نمائندوں نے شروع کیا۔
خاندان کے افراد کو سمجھانے کے لیے انسانی حقوق کی تنظیم اے پی ڈی آر کے کارکن مِٹھون منڈل سرگرم ہوئے۔ اس کا اثر بھی ہوا۔ شوہر کی موت کے بعد بھی وہ کئی لوگوں کے درمیان زندہ رہے گا، یہ جاننے کے بعد پیر کو رضامندی کے کاغذ پر اجیت کی بیوی تسلیمہ ملا نے دستخط کیے۔ سندربن کے دور دراز علاقے سے دستخط شدہ کاغذ لے کر منگل کی صبح 10 بجے کے قریب ورثا ایس ایس کے ایم پہنچ گئے تھے۔ صبح 10 بجے رضامندی کا کاغذ پہنچ گیا، لیکن اعضا جمع کرنے کا عمل شروع ہونے میں رات 10 بج گئی!
ایس ایس کے ایم ذرائع کے مطابق، ایک گھنٹے کے اندر اندر اجیت کی جسمانی حالت خراب ہونے لگی۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ ان کی جسمانی حالت جیسی تھی، اس میں اعضا جمع کرنا ممکن نہیں تھا۔ آخرکار ڈاکٹروں کا خدشہ درست ثابت ہوا اور نوجوان کا دل رک گیا۔ ڈیتھ سرٹیفکیٹ میں درج معلومات کے مطابق، بدھ کی صبح 7 بج کر 15 منٹ پر اجیت کی موت ہوئی۔ متوفی کے بھائی سمیر ملا کو افسوس تھا۔ انہوں نے کہا، ”اعضا عطیہ کرنے کا معاملہ ڈاکٹر صاحبان نے ہمیں سمجھانے کے بعد گھر کے سب لوگ راضی ہو گئے تھے۔ جو جو کاغذات پر دستخط کرنے کو کہا گیا، وہ سب کر دیا گیا۔ اس کے بعد بھی اعضا جمع کرنے کا عمل شروع ہونے میں 12 گھنٹے کیوں لگے؟ میں نے سوچا تھا کہ سندربن سے پہلے اعضا عطیہ کرنے والے کے طور پر میرے بھائی کا نام ہوگا۔ وہ اب نہ ہو سکا۔“
سندر بن کے دماغی موت کے مریض کااعضاءنہیں لیا جا سکا...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments