National

اروند کیجریوال نے کیا جسٹس سورن کانتا کا بائیکاٹ،عدالت میں اب نہیں ہوں گے پیش، لکھا خط

اروند کیجریوال نے کیا جسٹس سورن کانتا کا بائیکاٹ،عدالت میں اب نہیں ہوں گے پیش، لکھا خط

عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے جسٹس سورن کانتا کو ایک خط لکھ کر واضح کیا ہے کہ وہ نہ تو ان کے سامنے ذاتی طور پر پیش ہوں گے اور نہ ہی کوئی وکیل ان کی پیروی کرے گا۔ اپنے خط میں کیجریوال نے لکھا کہ وہ جسٹس سورن کانتا سے انصاف ملنے کی امید اب ٹوٹ گئی ہے۔ اس لیے انھوں نے مہاتما گاندھی کے ستیہ گرہ کے راستے پر چلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے یہ فیصلہ اپنی ضمیرکی آواز پر کیا ہے۔ گاندھی جی کے ستیہ گرہ کا حوالہ دیتے ہوئے کیجریوال نے اشارہ دیا کہ وہ اس معاملے میں قانونی لڑائی کے بجائے اخلاقی اور نظریاتی احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ جسٹس سوارن کانتا کے کسی بھی فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کا حق محفوظ رکھیں گے۔ دہلی کی شراب پالیسی سے یہ معاملہ جڑا ہوا ہے۔ کیجریوال اور دیگر ملزمان نے جسٹس سورن کانتا شرما سے کیس کی سماعت سے دستبرداری کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے متعدد بنیادوں کا حوالہ دیا۔ انھوں نے جج پر جانبداری برتنے کے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کئی حوالے بھی دیئے جس میں جج کے بچوں کا سرکاری وکلاء کے ساتھ بھی شامل تھا۔ تاہم جسٹس سورن کانتا شرما نے حال ہی میں اس عرضی کو خارج کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے آئین کا حلف لیا ہے اور دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گی۔ جج نے کیجریوال کی درخواست کو بغیر ثبوت کے الزامات قرار دیا اور کہا کہ اس طرح کی درخواستیں عدالتی عمل پر حملہ ہیں۔ اپنے فیصلے میں جسٹس سورن کانتا شرما نے کہا کہ اگر میں دستبردار ہوں جاؤں گی تویہ پیغام جائے گا کہ ججوں کو دباؤ ڈال کر ہٹایا جا سکتا ہے۔ کیجریوال کے خط اور ان کے فیصلے نے ایک بار پھر شراب پالیسی کے معاملے کوسرخیوں میں لادیا ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ دہلی ہائی کورٹ اس نئی صورتحال پر کیا موقف اختیار کرتا ہے اور کیجریوال کا ستیہ گرہ کا راستہ قانونی طور پر کتنا کارگر ثابت ہوگا۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments