National

آر بی آئی نے پے ٹی ایم پیمنٹس بینک کا لائسنس  کیامنسوخ

آر بی آئی نے پے ٹی ایم پیمنٹس بینک کا لائسنس کیامنسوخ

نئی دہلی: ریزروبینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے پے ٹی ایم پیمنٹس بینک لیمٹڈ کا بینکنگ لائسنس منسوخ کر دیا ہے، جس کے بعد یہ بینک اب کسی بھی طرح کی بینکنگ خدمات فراہم نہیں کر سکے گا۔ مرکزی بینک نے یہ فیصلہ آڈٹ رپورٹ میں بار بار قواعد کی خلاف ورزی سامنے آنے کے بعد کیا۔ ساتھ ہی آر بی آئی نے واضح کیا ہے کہ بینک کو بند کرنے (ونڈنگ اپ) کے لیے ہائی کورٹ میں درخواست دی جائے گی۔آربی آئی نے صارفین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ بینک کے پاس اتنی مالی گنجائش (لیکویڈیٹی) موجود ہے کہ وہ تمام صارفین کی جمع رقم واپس کر سکے۔ اس فیصلے کے بعد سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس کا اثر عام صارفین پر کس طرح پڑے گا۔ پے ٹی ایم ایپ کے استعمال کنندگان کے لیے ایک اہم بات یہ ہے کہ پے ٹی ایم ایپ پر UPI خدمات بدستور جاری رہیں گی۔ یعنی صارفین پہلے کی طرح QR کوڈ اسکین کر کے ادائیگی کر سکیں گے اور مرچنٹس بھی ساؤنڈ باکس کے ذریعے ادائیگی کی تصدیق حاصل کرتے رہیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ UPI سروسز براہ راست پیمنٹس بینک پر منحصر نہیں بلکہ دیگر بینکوں کے اشتراک سے چلائی جاتی ہیں۔تاہم، پی ٹی ایم پیمنٹس بینک سے منسلک والٹ اور FASTag پر اثر ضرور پڑے گا۔ اب ان میں کوئی نیا ٹاپ اپ یا کریڈٹ ٹرانزیکشن ممکن نہیں ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صارفین اپنے والٹ یا FASTag میں مزید رقم جمع نہیں کر سکیں گے۔ البتہ پہلے سے موجود بیلنس کو کمپنی یا بینک کی آئندہ ہدایات کے مطابق استعمال کیا جا سکے گا۔ جہاں تک صارفین کے موجودہ پیسے کا سوال ہے تو اس حوالے سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ آر بی آئی نے واضح طور پر کہا ہے کہ صارفین اپنی رقم نکال سکتے ہیں یا ضرورت کے مطابق خرچ بھی کر سکتے ہیں۔ بینک کے پاس تمام واجبات ادا کرنے کے لیے کافی فنڈ موجود ہے۔ یاد رہے کہ ریزروبینک آف انڈیا نے اس سے قبل بھی اس بینک پر کئی پابندیاں عائد کی تھیں۔ 11 مارچ 2022 کو نئے صارفین کو شامل کرنے پر روک لگا دی گئی تھی۔ اس کے بعد جنوری اور فروری 2024 میں مزید سخت اقدامات کرتے ہوئے نئے ڈپازٹ، کریڈٹ ٹرانزیکشن اور والٹ ٹاپ اپ پر پابندی عائد کی گئی۔ اب تازہ فیصلے میں بینک کا لائسنس مکمل طور پر منسوخ کر دیا گیا ہے۔ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے ڈیجیٹل پیمنٹ ایکو سسٹم پر وقتی اثر پڑ سکتا ہے، لیکن چونکہ UPI سروسز دیگر بینکوں کے ذریعے جاری رہیں گی، اس لیے عام صارفین کی روزمرہ لین دین پر زیادہ بڑا اثر متوقع نہیں ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments