National

’آپ نے حکومت کے اشارے پر مجھے بولنے سے روکا، یہ جمہوریت پر سیاہ داغ‘، راہل گاندھی نے اوم برلا کو لکھا خط

’آپ نے حکومت کے اشارے پر مجھے بولنے سے روکا، یہ جمہوریت پر سیاہ داغ‘، راہل گاندھی نے اوم برلا کو لکھا خط

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے منگل کے روز لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو خط لکھ کر حکومت کے اشارے پر انھیں بولنے سے روکنے کا سنگین الزام عائد کیا۔ انھوں نے اس عمل کو جمہوریت پر سیاہ داغ قرار دیا اور کہا کہ قائد حزب اختلاف اور ہر رکن کو بولنے کا حق جمہوری نظام کا اٹوٹ حصہ ہے۔ لیکن ان بنیادی جمہوری حقوق کو درکنار کیے جانے کے سبب ایک فکر انگیز حالت پیدا ہو گئی ہے۔ 20ایوان میں رخنہ اندازی کے درمیان راہل گاندھی نے پیر کی طرح منگل کو بھی سابق فوجی چیف ایم ایم نروَنے کی غیر مطبوعہ کتاب پر مبنی مضمون کا حوالہ دے کر چین کا معاملہ اٹھانے کی کوشش کی۔ اس کی اجازت آج بھی چیئر سے نہیں ملی۔ حالانکہ انھوں نے اس مضمون کو سرٹیفائی کیا اور ایوان کی میز پر رکھا۔ بہرحال، خط میں راہل گاندھی نے اوم برلا کو لکھا کہ ’’پیر کے روز صدر جمہوریہ کی تقریر پر شکریہ کی تحریک پر بحث کے دوران آپ نے مجھے اس رسالہ کے مضمون کو سرٹیفائی کرنے کی ہدایت دی تھی، جس کا میں ذکر کرنا چاہتا تھا۔ آج جب میں نے اپنی تقریر پھر سے شروع کی، تو میں نے اس دستاویز کو سرٹیفائی کر دیا۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’طویل مدت سے چل آ رہی روایت اور سابق سربراہان کے بار بار دیے گئے فیصلوں کے مطابق اگر کوئی رکن ایوان میں کسی دستاویز کا ذکر کرنا چاہتا ہے، تو اسے پہلے سرٹیفائی کرنا ہوتا ہے اور مواد کی ذمہ داری لینی ہوتی ہے۔ ایک بار یہ شرط پوری ہو جائے تو چیئر (ایوان کے سربراہ) رکن کو اس دستاویز کا حوالہ دینے کی اجازت دیتے ہیں۔ بعد ازاں حکومت کو اس پر جواب دینے کی ذمہ داری بنتی ہے، اور یہیں چیئر کا کردار ختم ہو جاتا ہے۔‘‘

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments