حیدرآباد: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے قومی صدر اسد الدین اویسی نے حیدر آباد میں آسام کے وزیراعلیٰ ہمانتا بسوا سرما کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔ حیدرآباد سے رکن اسمبلی اسد الدین اویسی نے حیدرآباد کے پولیس کمشنر کو مخاطب کرتے ہوئے شکایت درج کرائی ہے۔ اویسی نے تحریری شکایت درج کرائی ہے جس کو انھوں نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ بھی کیا ہے۔ اویسی نے اپنی شکایت میں لکھا کہ، آسام کے موجودہ وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما کے خلاف مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے، دو مذہبی برادریوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے، اور قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ الزامات لگانے کی دانستہ اور بدنیتی پر مبنی کارروائیوں کے خلاف شکایت دی جارہی ہے۔ انھوں نے اپنی شکایت میں ہمانتا بسوا سرما کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی درخواست کی۔ اویسی نے لکھا، میں آپ (پولیس کمشنر حیدرآباد) کے نوٹس میں لانے کے لیے لکھ رہا ہوں کہ آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما گزشتہ کئی سالوں سے سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا، عوامی تقریروں اور دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے مسلسل مسلم کمیونٹی کے خلاف بیانات دے رہے ہیں۔ اس طرح کی بہت سی تقاریر اب بھی پبلک ڈومین میں دستیاب ہیں۔ حالیہ مہینوں میں، مذکورہ وزیر اعلیٰ نے جان بوجھ کر اپنی نفرت انگیز تقاریر کو تیز کیا ہے، مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے اور ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان دشمنی اور نفرت کو فروغ دینے کے واضح اور شعوری ارادے کے ساتھ، یہ جانتے ہوئے کہ اس طرح کے الزامات قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو تباہ کرنے والے ہیں۔ اویسی نے اپنی شکایت میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ، سپریم کورٹ آف انڈیا نے شاہین عبداللہ بمقابلہ یونین آف انڈیا اینڈ او آر ایس میں واضح طور پر کہا ہے کہ ریاست اور قانون نافذ کرنے والے حکام کا یہ آئینی فرض ہے کہ وہ بنیادی حقوق کا تحفظ کریں، آئینی اقدار کا تحفظ کریں، اور قوم کے سیکولر اور جمہوری کردار بالخصوص قانون کی حکمرانی کی حفاظت کریں۔ عدالت نے مزید ہدایت کی کہ پولیس کو نفرت انگیز تقاریر کے معاملات میں باضابطہ شکایت کی عدم موجودگی میں بھی ازخود کارروائی کرنی چاہیے، اور یہ کہ کسی بھی قسم کی سستی یا ہچکچاہٹ فرض سے سنگین غفلت کے مترادف ہوگی۔ ایم آئی ایم صدر نے پولیس سے آسام بی جے پی کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر سات فروری کو پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے لکھا کہ اب یہ ویڈیو بی جے پی کے اکاؤنٹ سے ہٹا لیا گیا ہے لیکن اب بھی سوشل میڈیا پر دستیاب ہے۔ اویسی نے ویڈیو کی تفصیل بیان کرتے ہوے لکھا کہ، ویڈیو میں ہمانتا بسوا سرما کو اسلحہ سے لیس دکھایا گیا ہے اور واضح طور پر مسلمانوں کی تصویر کو نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ حیدر آباد کے رکن پارلیمنٹ نے مزید لکھا کہ، مذکورہ پوسٹ اور اس میں استعمال ہونے والی تصویروں کے ساتھ ویڈیو اور "پوائنٹ بلینک شاٹ" اور "نو مرسی" جیسے بیانات ایک دانستہ اور بدنیتی پر مبنی عمل ہے جس کا مقصد مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنا، مذہبی برادریوں کے درمیان نفرت اور بدخواہی کو فروغ دینا اور فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا دینا ہے۔
Source: social media
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو