National

اوڈیشہ: ریاستی حکومت نے دودھ کی قیمت میں فی لیٹر 4 روپے کا کیا اضافہ

اوڈیشہ: ریاستی حکومت نے دودھ کی قیمت میں فی لیٹر 4 روپے کا کیا اضافہ

ملک میں گیس سلنڈر کی قیمتوں میں اضافے سے جہاں لوگ پریشان ہو رہے ہیں، وہیں اب دودھ کی قیمتوں میں اضافے نے لوگوں کی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اوڈیشہ ملک اینڈ ڈیری کوآپریٹو فیڈریشن (او ایم ایف ای ڈی) نے ریاست بھر میں دودھ کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر اضافے کا اعلان کیا ہے۔ پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق ’او ایم ایف ای ڈی‘ نے پروسیسنگ اور نقل و حمل کے اخراجات میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے دودھ کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ ریاست کے وزیر برائے ماہی گیری اور حیوانی وسائل کی ترقی، گوکولانند ملک نے ٹونڈ دودھ کی قیمت 50 روپے سے بڑھا کر 54 روپے فی لیٹر اور پریمیم دودھ کی قیمت 54 روپے سے بڑھا کر 58 روپے فی لیٹر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسی طرح اب اوڈیشہ میں گولڈ پریمیم دودھ کی قیمت 56 روپے سے بڑھا کر 60 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے، جبکہ گولڈ پریمیم پلس ویرینٹ کی قیمت 60 روپے سے بڑھا کر 64 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔ ریاستی وزیر کے مطابق ترمیم شدہ قیمتیں اتوار سے نافذ ہو گئی ہیں۔ ریاستی وزیر گوکولانند ملک نے کہا کہ ٹونڈ دودھ اور پریمیم دودھ کے 500 ملی لیٹر کے پاؤچ اب 27 روپے اور 29 روپے میں فروخت ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی وزیر نے بتایا کہ پروسیسنگ اور نقل و حمل کے اخراجات میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ گوکولانند کے مطابق دودھ کی قیمتوں میں طویل عرصے سے کوئی ترمیم نہیں کی گئی تھی۔ ہم کسانوں کے مفاد میں زیادہ قیمت پر دودھ خریدیں گے۔ گوکولانند ملک نے مزید کہا کہ دیگر برانڈڈ کمپنیوں کے مقابلے میں ’او ایم ایف ای ڈی‘ کی قیمتیں اب بھی کافی کم ہیں، لیکن انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اسی دوران ’او ایم ایف ای ڈی‘ نے کسانوں سے خریدے جانے والے گائے کے دودھ کی قیمت میں ایک روپے کا اضافہ کر کے اسے 39.05 روپے فی لیٹر کر دیا ہے۔ اسی طرح کسانوں کو اب ’او ایم ایف ای ڈی‘ کو بھینس کا دودھ بیچنے پر فی لیٹر 1.60 روپے اضافی ملیں گے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments