National

آوارہ کتوں کے انتظام کے معاملے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ محفوظ

آوارہ کتوں کے انتظام کے معاملے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ محفوظ

نئی دہلی، 29 جنوری:سپریم کورٹ نے ملک بھر میں آوارہ کتوں کی آبادی کے انتظام کے لیے اٹھائے جا رہے اقدامات کی جانچ سے متعلق از خود نوٹس کیس میں جمعرات کو اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔ جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس سندیپ مہتا اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل بنچ نے مختلف ریاستوں، نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) اور انڈین اینیمل ویلفیئر بورڈ (اے ڈبلیو بی آئی) کے حتمی دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ رکھا۔ سماعت کے دوران عدالت نے این ایچ اے آئی کو ہدایت دی کہ قومی شاہراہوں پر آوارہ جانوروں کی موجودگی کی اطلاع دینے کے لیے ایک موبائل ایپ تیار کیا جائے ، جس میں عام شہری تصاویر اور مقام (لوکیشن) اپ لوڈ کر سکیں۔ این ایچ اے آئی نے اس تجویز کو قبول کرتے ہوئے ضروری اقدامات اٹھانے کی اطلاع دی۔ اے ڈبلیو بی آئی نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ اس نے ملک بھر میں صرف 76 نس بندی مراکز کو منظوری دی ہے ، جبکہ ریاستوں کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق 883 آوارہ کتا نس بندی مراکز موجود ہیں۔ بورڈ نے یہ بھی بتایا کہ 250 سے زائد منظوری کی درخواستیں زیر التوا ہیں اور کئی مراکز بغیر باضابطہ منظوری کے کام کر رہے ہیں، جس پر بنچ نے سوالات اٹھائے ۔ اے ڈبلیو بی آئی نے نس بندی کے اعداد و شمار میں پائی جانے والی بے ضابطگیوں کی بھی نشاندہی کی، جہاں بعض مقامات پر رپورٹ کی گئی نس بندی کی تعداد اندازہ شدہ کتے کی آبادی سے زیادہ پائی گئی۔ اس پر بنچ نے زیر التوا درخواستوں کو مقررہ وقت میں نمٹانے اور منظوری یا مسترد کرنے کی صورت میں وجوہات کے ساتھ فیصلہ کرنے کی ہدایت دی۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے تمام فریقین کو ایک ہفتے کے اندر تحریری دلائل جمع کرانے کی اجازت دی۔ یہ معاملہ گزشتہ برس قومی سطح پر اس وقت موضوع بحث بنا تھا، جب جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس آر مہادیون پر مشتمل بنچ نے دہلی میں آوارہ کتوں کو پکڑ کر شیلٹر میں رکھنے کا حکم دیا تھا، جس پر جانوروں کے حقوق سے وابستہ گروپوں نے احتجاج کیا تھا۔ بعد ازاں موجودہ بنچ نے حکم میں ترمیم کرتے ہوئے اینیمل برتھ کنٹرول ضابطے کے تحت ویکسینیشن، نس بندی اور دوبارہ چھوڑنے پر زور دیا۔ عدالت نے سات نومبر 2025 کے عبوری حکم میں ریاستوں اور این ایچ اے آئی کو قومی شاہراہوں اور اسپتالوں، اسکولوں اور تعلیمی اداروں جیسے مقامات سے آوارہ جانوروں کو ہٹانے کی ہدایت دی تھی۔ اس کے ساتھ ہی آٹھ ہفتوں کے اندر ان مقامات کی باڑ بندی کرنے اور ہٹائے گئے کتوں کو دوبارہ وہیں نہ چھوڑنے کے احکامات دیے گئے تھے ۔ آج کی سماعت کے دوران عدالت نے مختلف ریاستوں میں دستیاب سہولیات اور بجٹ کے التزامات کا جائزہ لیا۔ راجستھان میں صرف 22 ڈاگ پا¶نڈ ہونے پر عدالت نے اسے جے پور اور جودھ پور جیسے شہروں کے لیے ناکافی قرار دیا۔ پنجاب نے بتایا کہ ملیرکوٹلہ میں تعلیمی اور طبی اداروں سے 100 سے زائد کتوں کو ہٹایا گیا ہے ۔ این ایچ اے آئی نے بتایا کہ اس نے قومی شاہراہوں پر 1,300 سے زائد حساس مقامات کی نشاندہی کی ہے اور پٹرول ٹیموں اور معیاری آپریٹنگ طریقہ¿ کار کے ذریعے آوارہ جانوروں سے نمٹنے کا انتظام کیا ہے ۔ عدالت نے واضح کیا کہ قومی شاہراہوں پر آوارہ جانوروں کے انتظام کی بنیادی ذمہ داری این ایچ اے آئی کی ہوگی۔

Source: UNI NEWS

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments