National

انڈیا نے تیل کی خریداری روکنے کا کوئی عندیہ نہیں دیا: روس

انڈیا نے تیل کی خریداری روکنے کا کوئی عندیہ نہیں دیا: روس

کریملن نے منگل کے روز کہا کہ اسے انڈیا کی جانب سے ایسا کوئی اشارہ موصول نہیں ہوا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تجارتی معاہدے کے اعلان کے بعد روسی تیل کی خریداری بند کر دے گا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ کا انڈیا کے ساتھ تجارتی معاہدہ ہوگیا جس کے تحت انڈیا پر ٹیرف کم کرکے 18 فیصد کر دیا جائے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ وزیرِاعظم نریندر مودی نے یوکرین جنگ کے تناظر میں روسی تیل کی خریداری روکنے کا وعدہ کیا ہے۔ روس کی جانب سے فروری 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد، انڈیا کی روسی تیل کی خریداری میں نمایاں اضافہ ہوا، کیونکہ مغربی پابندیوں کے باعث ترسیل میں مشکلات اور منڈیوں کی بندش کے سبب روسی تیل رعایتی نرخوں پر دستیاب تھا۔ یوکرین اور اس کے مغربی اتحادی روس کی معیشت اور فوج کے لیے آمدن کے ایک اہم ذریعے، اربوں ڈالر کی تیل کی آمدنی، کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ منگل کو کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ابھی تک ہمیں اس معاملے پر نئی دہلی کی جانب سے کوئی بیان سننے کو نہیں ملا۔‘ صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ انڈین مصنوعات پر ٹیرف کم کر کے 18 فیصد کر رہے ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے کئی مصنوعات پر 25 فیصد ’جوابی‘ ٹیرف عائد کیے تھے۔ اس کے علاوہ ماسکو سے تیل خریدنے پر انڈیا پر مزید 25 فیصد ڈیوٹی بھی لگائی گئی تھی۔ اگرچہ مودی نے ٹرمپ کی ’شاندار‘ فون کال اور محصولات میں نرمی پر ان کا شکریہ ادا کیا، تاہم انہوں نے تیل کی خریداری روکنے سے متعلق ٹرمپ کے دعوے کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ 2024 میں روس نے انڈیا کی مجموعی خام تیل درآمدات کا تقریباً 36 فیصد فراہم کیا، جو یومیہ تقریباً 18 لاکھ بیرل تیل بنتا ہے۔ تاہم ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد مقامی میڈیا کے مطابق روس سے انڈیا کی ماہانہ تیل درآمدات میں 38 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے 2025 کے آخر میں نئی دہلی کے دورے کے دوران تیل کی ’بلا تعطل ترسیل‘ کا وعدہ کیا تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت 2024-25 میں 68.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو وبا سے قبل کی سطح کے مقابلے میں تقریباً چھ گنا زیادہ ہے، جس میں روس کی توانائی کی فروخت غالب رہی، جبکہ انڈیا کی روس کو برآمدات 5 ارب ڈالر سے بھی کم رہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments