National

انڈیا کی جانب سے لوگوں کو بنگلہ دیش میں زبردستی دھکیلنے کی کوششیں ناکام بنا دیں: حکام

انڈیا کی جانب سے لوگوں کو بنگلہ دیش میں زبردستی دھکیلنے کی کوششیں ناکام بنا دیں: حکام

بنگلہ دیش نے جمعرات کو الزام عائد کیا ہے کہ انڈیا نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران متعدد افراد کو زبردستی اُس کی حدود میں داخل کرنے کی کئی کوششیں کی ہیں جنہیں ناکام بنا دیا گیا ہے۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق ’اس صورتِ حال سے غیر قانونی نقل مکانی کے معاملے پر دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے، جس سے اِن کے تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحد کی لمبائی چار ہزار کلومیٹر (2500 میل) ہے جو دنیا کی طویل ترین زمینی سرحدوں میں سے ایک ہے، اور یہ مختلف قسم کے دُشوارگزار راستوں سے گزرتی ہے، جس کی نگرانی کرنا ایک مشکل کام ہے۔ بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (بی جی بی) کے مطابق ’انڈین حکام کی جانب سے سرحد کے مختلف حصوں میں دراندازی کی 10 کوششیں کی گئی ہیں۔‘ دوسری جانب انڈین وزارت خارجہ اور بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ انڈیا کی حکمران جماعت بھارتیا جنتا پارٹی، جس کی سرحدی ریاستوں تِری پورہ، مغربی بنگال اور آسام میں بھی حکومتیں قائم ہیں کا کہنا ہے کہ وہ غیر قانونی نقل مکانی کے مسئلے سے نمٹنے کو ترجیح دے گی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے رواں ماہ کے آغاز میں مغربی بنگال میں حکومت حاصل کی اور غیرقانونی تارکینِ وطن کی شناخت کے بعد ان کی ملک بدری کا وعدہ کیا تھا۔ یہ صورتِ حال تارکینِ وطن میں بڑھتی ہوئی بے چینی کو ظاہر کرتی ہے جن میں سے اکثریت کے پاس شہریت کی مکمل دستاویزات نہیں ہیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ان کی جبری بے دخلی اور ان کو حاصل محدود قانونی تحفظ کے بارے میں خبردار کر رہی ہیں۔ بہت سے لوگ ایک ایسی صورتِ حال میں پھنسے ہوئے ہیں جہاں ایک طرف انڈیا کا دباؤ ہے کہ وہ ملک چھوڑ دیں، اور دوسری طرف بنگلہ دیش انہیں باضابطہ شہریت کے ثبوت کے بغیر قبول کرنے سے انکار کر رہا ہے۔ کچھ لوگ مایوسی میں دریا عبور کر کے واپس جانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں، اگرچہ اس انخلا کا مکمل حجم واضح نہیں۔ واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے مغربی بنگال کی انتظامیہ نے ’غیرملکیوں‘ کے لیے عارضی حراستی مراکز قائم کرنے کا حکم دیا، جن میں بنگلہ دیشی اور روہنگیا شہری شامل ہیں۔ اس اقدام نے ریاست کی قریباً ساڑھے تین کروڑ مسلم آبادی میں مزید تشویش پیدا کی ہے۔ گذشتہ برس سے انڈیا مبینہ طور پر بنگالی زبان بولنے والے مسلمانوں کو ’غیر قانونی درانداز‘ قرار دے کر زبردستی بنگلہ دیش میں دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ معاملہ 2024 میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات بحال کرنے کی کوششوں میں بھی رکاوٹ بن گیا ہے۔ بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم حسینہ واجد کو انڈیا نواز رہنما سمجھا جاتا تھا۔ بارڈر گارڈ بنگلہ دیش نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’کسی فرد یا گروہ کو غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرکے بنگلہ دیش میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘ اسی بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’بین الاقوامی سرحدی انتظامی اُصولوں اور دوطرفہ معاہدوں کی خلاف ورزی کی کسی بھی کوشش کو ’سختی سے روکا جائے گا۔‘ گذشتہ ماہ بنگلہ دیشی بارڈر گارڈز نے سرحدی علاقوں میں گشت بڑھا دیا تھا اور عوامی آگاہی مہم بھی شروع کی تھی، کیونکہ حکام، انسانی حقوق کی تنظیموں اور تجزیہ کاروں کے مطابق اںڈیا مبینہ طور پر لوگوں کو قانونی تصدیق کے بغیر بنگلہ دیش میں دھکیل رہا ہے، جسے ’پش اِنز‘ کہا جا رہا ہے۔ انڈین وزارت خارجہ نے مئی میں کہا تھا کہ ’اس نے انڈیا میں غیر قانونی طور پر مقیم 2 ہزار 860 سے زائد مشتبہ بنگلہ دیشیوں کی شہریت کی تصدیق کرنے کے لیے بنگلہ دیش سے رابطہ کیا ہے۔‘

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments