نئی دہلی: 8 جون کو ہونے والے انڈیا بلاک کے اہم اجلاس سے قبل کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے دعویٰ کیا ہے کہ اپوزیشن اتحاد پوری طرح متحد ہے، اگرچہ بعض جماعتیں اپنی ’’مخصوص وجوہات‘‘ کی بنا پر اجلاس میں شرکت نہیں کر رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں جے رام رمیش نے کہا کہ 23 سیاسی جماعتیں نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں منعقد ہونے والے اجلاس میں شریک ہوں گی۔ ان کے مطابق اجلاس میں شامل نہ ہونے والی جماعتوں نے بھی مرکزی حکومت کی پالیسیوں اور اقدامات کی مخالفت کا اظہار کیا ہے۔ جے رام رمیش نے کہا کہ اجلاس میں شریک نہ ہونے والی جماعتوں نے بھی ان پالیسیوں کی مخالفت کی ہے جو، ان کے بقول، لاکھوں ہندوستانیوں کے حقِ رائے دہی کو متاثر کر رہی ہیں، آئین پر حملے کر رہی ہیں، اپوزیشن رہنماؤں کو تفتیشی ایجنسیوں کے ذریعے نشانہ بنا رہی ہیں، مہنگائی میں اضافہ کر رہی ہیں اور نوجوانوں کی امیدوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’جس طرح بھارت اپنی گوناگونیت کے باوجود متحد ہے، اسی طرح انڈیا گٹھ بندھن بھی متحد ہے۔‘‘ ادھر دراوڑ منیترا کزگم (ڈی ایم کے)، جو انڈیا بلاک کی اہم اتحادی جماعت سمجھی جاتی ہے، نے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈی ایم کے کا الزام ہے کہ تمل ناڈو میں کانگریس نے انتخابات کے بعد تملگا ویٹری کزگم (ٹی وی کے) کی حمایت کرکے اس کے ساتھ ’’دھوکہ‘‘ کیا ہے۔ کانگریس نے ریاستی انتخابات میں ڈی ایم کے اتحاد کے ساتھ مل کر مقابلہ کیا تھا اور پانچ نشستیں حاصل کی تھیں، تاہم بعد میں اس کے فیصلے سے دونوں جماعتوں کے تعلقات میں تلخی پیدا ہوگئی۔ ڈی ایم کے نے اپنے خط میں واضح کیا کہ وہ اجلاس میں شریک نہیں ہوگی، تاہم قومی مفاد سے متعلق مسائل پر حسبِ سابق اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔ دوسری جانب ممتا بنرجی اتوار کو اجلاس میں شرکت کے لیے دہلی روانہ ہو گئیں۔ ان کے ساتھ ترنمول کانگریس کے رہنما ڈولا سین اور کلیان بنرجی بھی موجود تھے۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں ترنمول کانگریس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور پارٹی اندرونی اختلافات سے بھی دوچار ہے۔ اطلاعات کے مطابق پارٹی کے 58 ارکانِ اسمبلی اور متعدد ارکانِ پارلیمان قیادت سے ناراض ہیں۔ مغربی بنگال کی وزیر اور بی جے پی رہنما اگنی مترا پال نے انڈیا بلاک کی افادیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’’عوام نے اس اتحاد کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ جب خود اتحادی جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات لگا رہی ہیں تو اتحاد کی یکجہتی پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ اجلاس اپوزیشن اتحاد کے مستقبل کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک طرف بی جے پی کی بڑھتی ہوئی سیاسی طاقت کا چیلنج موجود ہے، تو دوسری طرف اتحادی جماعتوں کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات بھی اتحاد کے لیے امتحان بن چکے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ انڈیا بلاک اپنے اندرونی تنازعات پر قابو پا کر مشترکہ حکمت عملی تشکیل دے پاتا ہے یا اختلافات مزید گہرے ہوتے ہیں۔
Source: social media
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات