(اے پی سی آر) کی کرناٹک یونٹ نے بروزاتوار، 10 مئی 2026 کوبنگلوروکے آشیرواد سینٹر، سینٹ مارکس روڈ میں ”حلقہ بندی، خواتین ریزرویشن بل اوراسپیشل انٹینسیوریویژن (ایس آئی آر)“ کے موضوع پرایک عوامی سیمینارمنعقد کیا۔ اس سیمینارمیں قانونی ماہرین، سماجی کارکنان، سماجی رہنما اورسول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ مقررین نے مجوزہ حلقہ بندی، خواتین ریزرویشن بل اورانتخابی فہرستوں کی جاری خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے اثرات پرتفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ مقررین نے مبینہ ووٹرحذف کئے جانے، انتخابی عمل میں شفافیت کی کمی اورجمہوری اداروں کے بڑھتے ہوئے غلط استعمال پرگہری تشویش ظاہرکی۔ سپریم کورٹ کے سینئرایڈووکیٹ پرشانت بھوشن نے کہا کہ ہندوستان کا جمہوری ڈھانچہ ایک نازک مرحلے سے گزررہا ہے۔ انہوں نے خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا کہ جمہوریت کے تحفظ کے ذمہ دارادارے، بشمول الیکشن کمیشن اور انتخابی فہرستوں کا نظام، عوامی شک و شبہات کی زد میں آ چکے ہیں۔ انہوں نے آئینی اقدار اور انتخابی جوابدہی کے تحفظ کے لیے ایک وسیع عوامی تحریک کی ضرورت پرزوردیا۔ ایس آئی آرعمل پرگفتگو کرتے ہوئے پرشانت بھوشن نے دعویٰ کیا کہ مغربی بنگال میں بڑے پیمانے پرووٹروں کے نام حذف کیے گئے اورتقریباً 91 لاکھ نام انتخابی فہرستوں سے نکال دیئے گئے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کے کام کاج میں مبینہ غیرشفافیت پربھی تنقید کی اورلاکھوں ووٹروں کواہلیت کے ثبوت طلب کرنے والے مبینہ نوٹسوں کا حوالہ دیا۔ خواتین ریزرویشن بل اورحلقہ بندی کے مسئلے پرانہوں نے مرکزی حکومت کوتنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خواتین ریزرویشن کو مستقبل کی حلقہ بندی سے جوڑنا پارلیمانی نمائندگی کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس سے جنوبی ریاستوں کی نمائندگی کم ہوسکتی ہے جبکہ لوک سبھا کی مجموعی نشستوں میں اضافہ ہوگا۔ ایڈووکیٹ سدھیرکمارمورولی نے ووٹنگ حقوق کے تحفظ کے لیے عوامی بیداری اوراجتماعی جمہوری اقدام کی اہمیت پرزوردیا۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ ایسے حلقوں میں مداخلت کرے جہاں جیت کا فرق حذف شدہ ووٹوں کی تعداد سے کم رہا ہو۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ بوتھ لیول افسران اورضلعی انتخابی حکام کے ذریعے انتخابی فہرستوں میں اپنے ناموں کی تصدیق ضرورکریں۔ ان کے مطابق انتخابات پرعوامی اعتماد صرف شفاف، صاف اورمنصفانہ انتخابی طریقۂ کارسے ہی بحال کیا جا سکتا ہے۔ کسان رہنما ویراسانگیا نے کہا کہ کسان، مزدور، دلت اوراقلیتیں معمولی دستاویزی غلطیوں کی بنیاد پرووٹرلسٹ سے نام حذف کیے جانے کے معاملے میں سب سے زیادہ متاثرہورہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ متعدد کسان تنظیموں اورمزدوریونینوں نے ایس آئی آرکے عمل کے حاشیہ پرموجود طبقات پرپڑنے والے اثرات پرغورکیا ہے اورجمہوری شرکت اورآئینی حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ عوامی مزاحمت کی اپیل کی ہے۔ سماجی کارکن تنویراحمد نے موجودہ انتخابی نظام کے کام کرنے کے طریقۂ کارپرسوال اٹھاتے ہوئے جمہوری اداروں کوکمزورکئے جانے کے خلاف وسیع سیاسی وسماجی اتحاد کی ضرورت پرزوردیا۔ سابق آرایس ایس رہنما رامے گوڑا نے بی جے پی پرالزام لگایا کہ وہ سرکاری اداروں اورانتخابی نظام کوانتخابی نتائج پراثراندازہونے کے لئے استعمال کررہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ووٹروں کے نام زیادہ تران علاقوں میں حذف کئے جا رہے ہیں، جہاں پارٹی کوکمزورانتخابی حمایت کا اندیشہ ہے۔ انہوں نے انتخابی نظام میں شفافیت اورجوابدہی پر بھی سوالات اٹھائے۔ سیمینارکے اختتام پرشہریوں، خصوصاً نوجوانوں، کسانوں، مزدوروں اوراقلیتوں سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنے انتخابی حقوق کے حوالے سے بیداررہیں اورآئین وجمہوری اقدارکے تحفظ کے لئے جمہوری عمل میں فعال کردارادا کریں۔
Source: Social Media
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات