National

انوراگ ٹھاکر اور پرویش ورما کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کا مقدمہ خارج: سپریم کورٹ کا فیصلہ

انوراگ ٹھاکر اور پرویش ورما کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کا مقدمہ خارج: سپریم کورٹ کا فیصلہ

نئی دہلی : سپریم نے 2020 کے دہلی سی اے اے احتجاج کے دوران مبینہ نفرت انگیز تقاریر کے معاملے میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے بی جے پی رہنماؤں انوراگ ٹھاکر اور پرویش ورما کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پیش کردہ تقاریر اور شواہد کا جائزہ لینے کے بعد کوئی قابلِ تعزیر جرم ثابت نہیں ہوتا۔ عدالت نے کہا کہ بیانات کسی خاص کمیونٹی کے خلاف براہ راست نہیں تھے، ان سے نہ تو تشدد بھڑکا اور نہ ہی عوامی نظم و نسق متاثر ہوا۔ یہ مقدمہ سی پی آئی (ایم) کی رہنما برندا کرت اور کے ایم تیواری کی درخواست پر دائر کیا گیا تھا، جس میں ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے دہلی ہائی کورٹ کے 2022 کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر درج کرنے سے پہلے پیشگی منظوری لازمی نہیں، تاہم، اس معاملے میں بنیادی طور پر جرم ہی ثابت نہیں ہوتا اور فوجداری قانون کا عمل ایک ترتیب سے چلتا ہے جیسے اطلاع، ایف آئی آر، تفتیش، رپورٹ اور عدالتی کارروائی۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ جہاں قابلِ تعزیر جرم بنتا ہو، وہاں ایف آئی آر درج کرنا لازمی ہے، لیکن ایسے معاملات میں جہاں جرم ہی ثابت نہ ہو، قانونی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ یہ معاملہ 2020 کے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف دہلی میں ہونے والے مظاہروں سے جڑا ہوا ہے، جہاں بعض سیاسی تقاریر کو نفرت انگیز قرار دیا گیا تھا۔

Source: Social Media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments