National

اناؤ ریپ کیس: سپریم کورٹ نے کلدیپ سینگر کی ضمانت کی منسوخ، ہائی کورٹ کو 2 ماہ میں فیصلہ کرنے کی ہدایت

اناؤ ریپ کیس: سپریم کورٹ نے کلدیپ سینگر کی ضمانت کی منسوخ، ہائی کورٹ کو 2 ماہ میں فیصلہ کرنے کی ہدایت

ملک کو ہلا کر رکھ دینے والے مشہور اناؤ ریپ کیس میں ایک بار پھر قانونی ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کے مرکزی ملزم اور سابق رکنِ اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کے خلاف ایک سخت اور بڑا فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے دہلی ہائی کورٹ کے اس پرانے حکم کو مکمل طور پر منسوخ کر دیا ہے، جس میں سینگر کی سزا معطل کرتے ہوئے اسے راحت دی گئی تھی۔چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی کی بنچ نے دہلی ہائی کورٹ کو واضح ہدایت دی ہے کہ وہ اس معاملے پر نئے سرے سے غور کرے اور آئندہ دو ماہ کے اندر سماعت مکمل کر کے نیا فیصلہ سنائے۔ دراصل دسمبر 2024 میں دہلی ہائی کورٹ نے کلدیپ سنگھ سینگر کی عمر قید کی سزا معطل کرتے ہوئے اسے ضمانت دے دی تھی۔ ہائی کورٹ نے 15 لاکھ روپے کے مچلکے اور تین مقامی ضامنوں کی شرط پر اس کی رہائی کا حکم دیا تھا۔ تاہم سپریم کورٹ نے گزشتہ سال ہی اس حکم پر روک لگا دی تھی اور اب اسے مکمل طور پر رد کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ کی بنچ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہائی کورٹ کے “حد سے زیادہ تکنیکی نتائج” کی حمایت نہیں کرتی۔ عدالت نے یاد دلایا کہ پوکسو ایک سخت تعزیری قانون ہے، جسے بچوں کو جنسی استحصال سے بچانے کے لیے بنایا گیا ہے، اس لیے اس میں کسی بھی قسم کی نرمی برداشت نہیں کی جا سکتی۔ سماعت کے دوران عدالت کا ماحول کافی گرم رہا۔ سینگر کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل این ہری ہرن نے دلیل دی کہ متاثرہ لڑکی واقعے کے وقت نابالغ نہیں تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایمس کے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ بھی اسی طرف اشارہ کرتی ہے کہ متاثرہ بالغ تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام ثبوت حق میں ہونے کے باوجود سینگر جیل میں ہیں۔ دوسری جانب سی بی آئی کی طرف سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے اس دلیل کی سخت مخالفت کی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اصل سزا آئی پی سی کی دفعہ 376(1) کے تحت سنائی گئی ہے، جس میں عمر قید کی سزا مقرر ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ سینگر اب رکنِ اسمبلی نہیں رہا، لیکن معاشرے میں اس کا اثر و رسوخ آج بھی کافی مضبوط ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی بنچ نے واضح کیا کہ دہلی ہائی کورٹ کو کسی بھی پرانے تعصب کے بغیر دونوں فریقین کو مکمل طور پر سن کر نیا حکم جاری کرنا ہوگا۔ عدالت نے یہ اختیار بھی دیا کہ اگر ہائی کورٹ کو لگتا ہے کہ مرکزی اپیل پر دو ماہ کے اندر حتمی فیصلہ ممکن نہیں، تو وہ سزا معطلی کی درخواست پر تفصیلی سماعت کے بعد ایک نیا اور آزادانہ حکم جاری کر سکتی ہے۔ فی الحال یہ معاملہ 25 مئی کو دہلی ہائی کورٹ میں سماعت کے لیے درج ہے۔ سپریم کورٹ کے اس سخت رویے کے بعد یہ صاف ہو گیا ہے کہ کلدیپ سنگھ سینگر کے لیے جیل سے باہر آنا اب اتنا آسان نہیں ہوگا۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments