National

اناؤ عصمت دری معاملہ: کلدیپ سینگر کے بھائی کو نہیں ملی ضمانت، عدالت نے خود سپردگی کا دیا حکم

اناؤ عصمت دری معاملہ: کلدیپ سینگر کے بھائی کو نہیں ملی ضمانت، عدالت نے خود سپردگی کا دیا حکم

دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ کے روز اناؤ عصمت دری معاملہ کے مجرم کلدیپ سینگر کے بھائی جے دیپ سینگر کو حکم دیا ہے کہ وہ جیل افسران کے سامنے خود سپردگی کرے۔ عدالت نے یہ ہدایت متاثرہ لڑکی کے والد کی دوران حراست موت کے معاملے میں جے دیپ سینگر کو سنائی گئی سزا کے تناظر میں جاری کی ہے۔ جسٹس نوین چاولہ اور جسٹس رویندر ڈوڈیجا کی بنچ مجرم کی اس درخواست پر سماعت کر رہی تھی، جس میں اس نے 10 سال کی سزا کو معطل کر کے عبوری ضمانت میں مزید توسیع کی اپیل کی ہے۔ عدالت نے کہا کہ جے دیپ سینگر جولائی 2024 میں دی گئی عبوری ضمانت میں آخری بار اپریل 2025 میں توسیع کی گئی تھی۔ اس کے بعد سے 5 تاریخیں گزر جانے کے باوجود عدالت کے ذریعہ اس کے عبوری ضمانت میں مزید توسیع کرنے یا اس کی سزا معطل کرنے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا ہے۔ جے دیپ سینگر کے وکیل انے اس کی خرابی صحت کے پیش نظر عبوری ضمانت کی مدت میں توسیع کی درخواست کی، جس پر بنچ نے کہا کہ ’’آپ خود سپردگی کیجیے، پھر ہم دیکھیں گے۔‘‘ بنچ نے حکم دیا کہ ’’اگرچہ سنائی گئی سزا کی عبوری معطلی کی مدت میں توسیع نہیں کی گئی، پھر بھی اس نے خود سپردگی نہیں کی ہے۔ سزا کی معطلی کی مدت بڑھانے کی درخواست پر غور کرنے سے قبل ہم اپیل کنندہ سے کہتے ہیں کہ وہ پہلے خود سپردگی کرے۔‘‘ جے دیپ سینگر کے وکیل نے عدالت کو یقین دلایا کہ وہ ہفتے تک خود سپردگی کر دے گا۔ عدالت نے معاملے کی سماعت اگلے ہفتے کے لیے مقرر کر دی ہے۔ واضح رہے کہ جے دیپ سینگر (50) نے منہ کے کینسر سے متاثر ہونے کی بنیاد پر ضمانت میں توسیع کی گزارش کی ہے۔ سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کے وکیل نے پہلے کہا تھا کہ یہ عبوری ضمانت میں توسیع کا مناسب معاملہ نہیں ہے اور جے دیپ سینگر کے ذریعہ اپنی عرضی کی حمایت میں فراہم کردہ معلومات من گھڑت ہیں۔ جے دیپ سینگر نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ وہ منہ کے کینسر کے چوتھے مرحلے میں مبتلا ہے، جو کہ ایک جان لیوا صورتحال ہے اور اس کے دوبارہ ہونے کی علامات ظاہر ہوئی ہیں۔ عرضی میں مزید کہا گیا ہے کہ اس صورتحال میں اسے مسلسل اور خصوصی طبی نگہداشت کی ضرورت ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments