چنئی: تمل ناڈو میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو ایک اور بڑا سیاسی جھٹکا اس وقت لگا جب ریاستی نائب صدر کرونا ناگراجن، ریاستی سکریٹری سُمتی وینکٹیشن اور کئی دیگر لیڈروں نے پارٹی کی بنیادی رکنیت سمیت اپنے تمام عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ ان لیڈروں نے سابق بی جے پی لیڈر کے انّاملائی کی نئی سیاسی تحریک میں شامل ہونے کا اعلان کرتے ہوئے ان کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ تمل ناڈو کی سیاست میں یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل انّاملائی نے بھارتیہ جنتا پارٹی سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد ایک نئی تنظیم کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ انّاملائی کے اس فیصلے کے بعد ریاستی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے اور اب پارٹی کے کئی اہم لیڈر بھی ان کے ساتھ کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔ استعفیٰ دینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کرونا ناگراجن نے کہا کہ سیاسی نظام میں قیادت اور نمائندگی کے مواقع محدود خاندانوں تک نہیں رہنے چاہئیں۔ ان کے مطابق اگر ایک ہی خاندان سے رکن پارلیمنٹ یا رکن اسمبلی منتخب ہو چکا ہے تو آئندہ کسی دوسرے خاندان کو بھی قیادت کا موقع ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انّاملائی کی نئی تنظیم اسی سوچ کے تحت کام کر رہی ہے اور عوام میں اسے مثبت ردعمل مل رہا ہے۔ کرونا ناگراجن نے دعویٰ کیا کہ انّاملائی کی قیادت میں قائم ہونے والی نئی تنظیم میں سات لاکھ سے زائد افراد رضاکارانہ طور پر شامل ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق نوجوانوں، خواتین اور مختلف سماجی طبقات میں انّاملائی کی مقبولیت مسلسل بڑھ رہی ہے، جس کے باعث ان کی تحریک تیزی سے عوامی حمایت حاصل کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمل ناڈو کے عوام ایک مضبوط، فکری اور عوامی مسائل کو سمجھنے والی قیادت کی تلاش میں ہیں اور انّاملائی ان تمام خصوصیات کے حامل لیڈر ہیں۔ ان کے بقول انّاملائی نے ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کو ریاست کے دور دراز دیہی علاقوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا اور پارٹی کی تنظیمی بنیادوں کو مضبوط بنایا۔ کرونا ناگراجن نے مزید کہا کہ انّاملائی سوشل میڈیا اور عوامی رابطے کے میدان میں بھی غیر معمولی مقبولیت رکھتے ہیں۔ وہ مختلف قومی اور علاقائی مسائل پر بے باک انداز میں اپنی رائے پیش کرتے ہیں، جس کی وجہ سے نوجوان نسل خاص طور پر ان سے متاثر ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تمل ناڈو کے عوام اسی قسم کی قیادت کو پسند کرتے ہیں جو کھل کر بات کرے اور عوامی مسائل کو اجاگر کرے۔ اطلاعات کے مطابق انّاملائی نے کچھ روز قبل بی جے پی کے قومی صدر نتن نوین کو اپنا استعفیٰ پیش کیا تھا، جسے پارٹی قیادت نے قبول کر لیا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے باضابطہ طور پر نئی سیاسی تنظیم کے آغاز کا اعلان کیا، جس کے بعد مختلف حلقوں سے لوگ ان کے ساتھ جڑتے جا رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق کرونا ناگراجن اور سُمتی وینکٹیشن جیسے سینئر لیڈروں کا استعفیٰ تمل ناڈو بی جے پی کے لیے ایک بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید لیڈروں اور کارکنوں کی انّاملائی کی تحریک میں شمولیت کے امکانات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں، جس سے ریاست کی سیاسی صورتحال میں مزید تبدیلی آ سکتی ہے۔ اس پیش رفت نے تمل ناڈو کی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے اور آنے والے دنوں میں اس کے اثرات مزید واضح ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
Source: social media
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات