National

’امریکہ-اسرائیل کی لابی نے دہائیوں قدیم خارجہ پالیسی کی سمت بدل دی‘، پی ایم مودی کے اسرائیل دورہ پر کانگریس کا سخت رد عمل

’امریکہ-اسرائیل کی لابی نے دہائیوں قدیم خارجہ پالیسی کی سمت بدل دی‘، پی ایم مودی کے اسرائیل دورہ پر کانگریس کا سخت رد عمل

’’وزیر اعظم نریندر مودی اسرائیل کے دورہ پر ہیں۔ وہ پہلی بار 2017 میں اسرائیل گئے تھے۔ حالانکہ وہ گئے تھے، بھیجے گئے تھے یا بھجوائے گئے تھے... اس بارے میں آپ کو تفصیل سے بتائیں گے۔ اب جس ماحول میں وزیر اعظم نریندر مودی اسرائیل گئے ہیں، اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ امریکہ کبھی بھی ہمارے پرانے ساتھی ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔ اس سے قبل وہ دھمکیوں سے ڈر کر ایران اور روس سے تیل کی خریداری بند کر چکے ہیں۔ اب ایسے ماحول میں وزیر اعظم نریندر مودی اسرائیل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔‘‘ یہ بیان آج کانگریس ترجمان پون کھیڑا نے ایک پریس کانفرنس کے دوران دیا۔ انھوں نے پی ایم مودی کے اسرائیل دورہ کی تنقید کی اور اس کے پیچھے موجود کچھ شبہات کی طرف اشارہ کیا۔ پون کھیڑا نے میڈیا اہلکاروں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’اسرائیل اور فلسطین سے متعلق ہندوستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے ’دو ملکی‘ اصول والی رہی ہے۔ لیکن امریکہ-اسرائیل کی ایک لابی نے ہماری دہائیوں قدیم خارجہ پالیسی کی شکل و سمت بدل دی۔‘‘ انھوں نے جیفری ایپسٹین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایپسٹین عام لوگوں کے لیے ایک نامی جنسی مجرم ہے، لیکن مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک ہیرو ہے۔ مرنے کے بعد مودی حکومت کے فیصلوں اور ان کی پالیسیوں میں ایپسٹین زندہ ہے۔ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ’ایپسٹین‘ نریندر مودی کا نظریہ ہے۔‘‘ کانگریس ترجمان نے پی ایم مودی کے ایک پرانے بیان پر طنز بھی کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں نے حال ہی میں سنا کہ نریندر مودی نے کہا– ’میں نے بچپن میں ایک روبوٹ بنایا تھا، جس کے لیے مجھے میڈل بھی ملا تھا۔‘ یہی بات ٹرمپ، نیتن یاہو اور ایپسٹین بھی کہتا ہے کہ ہم نے ایک روبوٹ بنایا ہے، جس کا نام نریندر مودی ہے، اور وہ ہندوستان کا وزیر اعظم ہے۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’4 جنوری 2017 کو ہردیپ سنگھ پوری نے ایپسٹین کو ای میل بھیجتے ہوئے کہا– ’مجھے ملنا ہے۔‘ اور آخر میں 6 جنوری کو میٹنگ طے ہوتی ہے۔ اس کے فوراً بعد ایپسٹین ایک دیگر شخص دیپک چوپڑا کو ای میل کرتا ہے اور انل امبانی کے بارے میں پوچھتا ہے۔ آخر میں ایپسٹین اور انل امبانی کی 21 فروری 2017 کو ملاقات ہوتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آخر کس کے اشارے پر ایپسٹین کسی دیگر کی مدد لے کر انل امبانی کو تلاش کرنے نکل پڑا؟‘‘

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments