تمام اسٹال ہٹا دیے جائیں“، بونگاوں میں سی پی ایم کے کتابوں کے اسٹال کو ہائی کورٹ کی ڈویڑن بنچ کی اجازت نہیں
بونگاوں میں سی پی ایم کے کتابوں کے اسٹال کو لے کر نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ سنگل بنچ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے ریاستی حکومت کولکاتا ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی والی ڈویڑن بنچ سے رجوع ہوئی۔ ڈویڑن بنچ نے جسٹس سوگت بھٹاچاریہ کے سنگل بنچ کے فیصلے کو منسوخ کر دیا۔ ڈویڑن بنچ نے میز اور چھتری لگا کر بھی اسٹال لگانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ مقدمے کی اگلی سماعت 21 جنوری کو ہوگی۔ عدالت نے مقدمے سے وابستہ تمام فریقوں کو نوٹس جاری کرنے کی ہدایت دی ہے۔
جمعہ کو سماعت کے دوران چیف جسٹس رویندر وی گھوگے نے کہا، ”دکھائیے، کیا آپ نے اجازت کے لیے درخواست دی تھی؟ اگر درخواست دینے کے باوجود اجازت نہیں ملی تو پولیس کیا کرے گی؟“
سی پی ایم کے وکیل شمیم احمد نے کہا، ”پی ڈبلیو ڈی اور ہائی وے اتھارٹی کو اجازت کے لیے ای میل بھیجی گئی تھی۔“
مقدمہ دائر کرنے والے فریق کے وکیل نے سوال کیا کہ کیا پولیس کو بھی درخواست کے بارے میں بتایا گیا تھا؟
چیف جسٹس نے ہدایت دی، ”سڑک کے کنارے لگے تمام اسٹال ہٹا دیے جائیں۔ اگر اجازت نہیں ہے تو کسی کو بھی اسٹال لگانے کی ضرورت نہیں۔ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔ کتابوں کا اسٹال کہاں ہے؟ کیا سڑک پر ہے؟“
جواب میں سی پی ایم کے وکیل شمیم احمد نے کہا، ”پارٹی دفتر کے سامنے ہے۔“
چیف جسٹس نے سوال کیا، ”کیا سی پی ایم کا کتابوں کا اسٹال بھی سڑک کے کنارے لگے دوسرے اسٹالوں کی ہی قطار میں ہے، یا کچھ آگے سڑک پر نکلا ہوا ہے؟“
مقدمہ دائر کرنے والے فریق نے جواب دیا کہ اسٹال دوسرے اسٹالوں کی طرح اسی قطار میں ہے۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلبدل بھٹاچاریہ نے دلیل دی، ”یہ معلوم نہیں ہے کہ باقی اسٹالوں کے لیے اجازت لی گئی ہے یا نہیں۔“
چیف جسٹس نے کہا، ”ہائی کورٹ انہیں ہٹانے کا حکم دے گی۔ قانون کی نظر میں سب کے ساتھ برابری ہونی چاہیے۔ تمام اسٹال ہٹا دیے جائیں۔“
وکیل شمیم احمد نے کہا کہ جسٹس سوگت بھٹاچاریہ کی سنگل بنچ نے بھی یہی مشاہدہ کیا تھا۔
اس پر ایڈووکیٹ جنرل نے سوال کیا، ”قانون کی نظر میں بغیر اجازت کتابوں کا اسٹال کیسے لگایا جا سکتا ہے؟“
دوسری جانب، سی پی ایم کے وکیل نے کہا، ”درگا پوجا شروع ہو چکی ہے۔ اب تہوار کے صرف تین سے چار دن باقی ہیں۔ کتابوں کا اسٹال چلانے کی اجازت دی جائے۔ بغیر مائیک یا مائیکروفون استعمال کیے اسٹال لگانے کی اجازت دی جائے۔“
مقدمے کی پیروی کرتے ہوئے سی پی ایم کے وکیل نے آخری تجویز پیش کی کہ پارٹی دفتر کے سامنے پانچ فٹ لمبی میز لگا کر اسٹال چلانے کی اجازت دی جائے۔ چھت کی ضرورت نہیں، صرف چھتری اور میز لگا کر کتابوں کا اسٹال قائم کرنے دیا جائے۔
اس کے جواب میں ایڈووکیٹ جنرل نے پھر کہا، ”بونگاو¿ں تھانے کے انچارج انسپکٹر عدالت میں موجود ہیں۔ کتابوں کے اسٹال سے بنگلہ دیش کی سرحد کا فاصلہ چھ کلومیٹر ہے۔“
اس کے فوراً بعد چیف جسٹس نے حکم دیا کہ میز اور چھتری لگا کر بھی کتابوں کا اسٹال نہیں چلایا جا سکتا۔
تمام اسٹال ہٹا دیے جائیں“، بونگاوں میں سی پی ایم کے کتابوں کے اسٹال کو ہائی کورٹ کی ڈویڑن بنچ کی اجازت نہیں...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments