National

الہ آباد ہائی کورٹ سے راہل گاندھی کو بڑی راحت، ایف آئی آر کی درخواست مسترد

الہ آباد ہائی کورٹ سے راہل گاندھی کو بڑی راحت، ایف آئی آر کی درخواست مسترد

پریاگ راج: الہ آباد ہائی کورٹ نے لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کو بڑی راحت دیتے ہوئے اس عرضی کو خارج کر دیا ہے جس میں ان کے بیان پر ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ درخواست میں ایسا کوئی مضبوط جواز پیش نہیں کیا گیا جس کی بنیاد پر فوجداری کارروائی شروع کی جا سکے۔یہ فیصلہ جسٹس وکرم ڈی چوہان کی سنگل بنچ نے سنایا۔ یہ عرضی ہندو شکتی دل کی رکن سمرن گپتا کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ راہل گاندھی کا “انڈین اسٹیٹ سے لڑائی” والا بیان عوامی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والا اور مبینہ طور پر ملک مخالف نوعیت کا ہے۔ یہ معاملہ گزشتہ سال جنوری میں نئی دہلی میں واقع آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے نئے ہیڈکوارٹر کے افتتاح کے دوران دیے گئے راہل گاندھی کے بیان سے جڑا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ “ہم اب بی جے پی، آر ایس ایس اور بھارتی ریاست سے بھی لڑ رہے ہیں۔”درخواست گزار کا الزام تھا کہ یہ بیان محض سیاسی تنقید نہیں بلکہ ریاست کو مخالف قوت کے طور پر پیش کرنے اور ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ تاہم عدالت نے اس دلیل کو تسلیم نہیں کیا اور درخواست کو مسترد کر دیا۔اس سے قبل سنبھل کی ایک مقامی عدالت بھی راہل گاندھی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست کو خارج کر چکی تھی۔ بعد ازاں دائر کی گئی نظر ثانی کی عرضی بھی مسترد ہو گئی تھی، جس کے بعد معاملہ الہ آباد ہائی کورٹ پہنچا۔ راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں بی جے پی اور آر ایس ایس پر الزام لگایا تھا کہ وہ ملک کے اداروں پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ کانگریس آئین اور ملک کی بنیادی روح کے تحفظ کی جنگ لڑ رہی ہے۔ان کے اس بیان پر اس وقت سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے کو ملا تھا۔ بی جے پی رہنماؤں نے اس بیان کو بھارت کی خودمختاری اور آئینی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی کوشش قرار دیا تھا۔سابق بی جے پی صدر جے پی نڈانے کہا تھا کہ راہل گاندھی کا بیان کانگریس کی سوچ کو ظاہر کرتا ہے اور یہ ملک کے خلاف نظریاتی لڑائی کی عکاسی کرتا ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل آسام کے شہر گوہاٹی کے پان بازار تھانے میں بھی راہل گاندھی کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ان کے بیان سے قومی یکجہتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments