National

اکثریت جانچنے کا اختیار گورنر کو نہیں، سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کریں، کپل سبل کا تمل ناڈو گورنر پر سخت تنقید،

اکثریت جانچنے کا اختیار گورنر کو نہیں، سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کریں، کپل سبل کا تمل ناڈو گورنر پر سخت تنقید،

راجیہ سبھا کے رکن اور سینئر وکیل کپل سبل نے تمل ناڈو کے گورنر راجندر وشوناتھ آرلیکر پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ”ایجنٹ“ کے طور پر کام کر رہے ہیں اور آئین کی من مانی تشریح کے ذریعے سیاسی فائدہ پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گورنر کا کام کسی پارٹی کی اکثریت کی جانچ کرنا نہیں بلکہ سب سے بڑی جماعت کو حکومت بنانے کی دعوت دینا ہے، تاکہ وہ اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کر سکے۔ کپل سبل نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا ہے جب تھلاپتی وجے کی قیادت والی ٹی وی کے پارٹی حکومت بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے، لیکن ابھی تک گورنر کی جانب سے باضابطہ دعوت نہیں دی گئی ہے۔ نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کپل سبل نے کہا کہ انہیں امید تھی کہ اب تک گورنر ٹی وی کے کو حکومت بنانے کے لیے بلا چکے ہوں گے، کیونکہ 23 اپریل کو ہونے والے اسمبلی انتخابات میں یہی جماعت سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری تھی۔ انہوں نے کہا کہ جب گورنر سیاسی غیرجانبداری چھوڑ کر کسی خاص جماعت کے اشاروں پر کام کرنے لگیں تو آئینی اداروں کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ کپل سبل نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں کسی بھی جماعت کے پاس واضح اکثریت نہیں ہے، اس لیے آئینی روایت اور سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کے مطابق سب سے بڑی پارٹی کو پہلے حکومت بنانے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق گورنر کو ٹی وی کے کے سربراہ وجے کو مدعو کر کے حلف دلانا چاہیے اور پھر اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کے لیے مناسب وقت دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اکثریت کا فیصلہ راج بھون میں نہیں بلکہ اسمبلی کے فلور پر ہونا چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گورنر وقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ بی جے پی سیاسی جوڑ توڑ کے ذریعے صورتحال کو اپنے حق میں تبدیل کر سکے اور ٹی وی کے کو حکومت بنانے سے روکا جا سکے۔ سبل کے مطابق یہ طرز عمل آئینی اصولوں اور جمہوری روایات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی کئی معاملات میں واضح کر چکی ہے کہ گورنر کو اکثریت کی جانچ کرنے کے بجائے سب سے بڑی جماعت کو موقع دینا چاہیے۔ ادھر ٹی وی کے سربراہ تھلاپتی وجے دو دن کے اندر دوسری مرتبہ لوک بھون پہنچے اور گورنر آرلیکر سے ملاقات کی۔ انہوں نے کانگریس کی حمایت کے ساتھ حکومت بنانے کے لیے باضابطہ دعوت دینے کی درخواست کی، لیکن گورنر نے انہیں واضح طور پر کہا کہ پہلے 118 ارکان اسمبلی کی حمایت کے دستخط پیش کیے جائیں۔ ذرائع کے مطابق گورنر نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت سازی کے لیے مطلوبہ اکثریت ثابت کرنا ضروری ہے۔ دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی نے گورنر کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مکمل طور پر آئینی اصولوں اور قانونی ضابطوں کے مطابق کارروائی کر رہے ہیں۔ بی جے پی لیڈروں کا کہنا ہے کہ حکومت سازی جیسے حساس معاملے میں گورنر کو تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کا حق حاصل ہے۔ تمل ناڈو راج بھون کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ گورنر نے ٹی وی کے سربراہ وجے کو سمجھایا ہے کہ ان کی پارٹی کے پاس فی الحال حکومت بنانے کے لیے درکار حمایت موجود نہیں ہے۔ تاہم کپل سبل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں پھر دوہرایا کہ گورنر آئین کو بی جے پی کے فائدے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وجے چونکہ سب سے بڑی جماعت کے لیڈر ہیں، اس لیے انہیں فوری طور پر وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف دلایا جانا چاہیے۔ واضح رہے کہ 23 اپریل کو ہوئے انتخابات میں ٹی وی کے نے 234 رکنی اسمبلی میں 108 نشستیں حاصل کیں اور سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی۔ کانگریس نے اپنی پانچ نشستوں کے ساتھ ٹی وی کے کی حمایت کا اعلان کیا ہے، تاہم اس کے باوجود پارٹی ابھی بھی اکثریت کے جادوئی عدد 118 سے چند نشستیں دور ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں تمل ناڈو کی سیاست مزید دلچسپ رخ اختیار کر سکتی ہے، کیونکہ حکومت سازی کا معاملہ اب مکمل طور پر گورنر کے فیصلے اور ممکنہ سیاسی اتحادوں پر منحصر ہو گیا ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments