National

اقتدار کے لیے بی جے پی نے کہیں کانگریس تو کہیں اے آئی ایم آئی ایم سے ملایا ہاتھ، شندے گروپ نے بتایا ’’غیراخلاقی اتحاد‘‘

اقتدار کے لیے بی جے پی نے کہیں کانگریس تو کہیں اے آئی ایم آئی ایم سے ملایا ہاتھ، شندے گروپ نے بتایا ’’غیراخلاقی اتحاد‘‘

ممبئی: مہاراشٹر کی مقامی سیاست میں اقتدار کی کشمکش نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ جب اقتدار ہی مقصد بن جائے تو نظریاتی فاصلے مٹ جاتے ہیں۔ حالیہ نگر پریشد انتخابات میں اکولا ضلع کی اکوٹ نگر پریشد اور تھانے کی امبرناتھ نگر پریشد میں واضح اکثریت نہ ملنے کے بعد بی جے پی نے اقتدار کے حصول کے لیے کہیں کانگریس اور کہیں اے آئی ایم آئی ایم سے اتحاد کر لیا۔ اس غیر متوقع سیاسی میل جول پر شیوسینا (شندے گروپ) نے بی جے پی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اسے ’’غیراخلاقی اتحاد‘‘ قرار دیا ہے۔ بی جے پی اور کانگریس، جو ایک دوسرے کے خلاف سخت سیاسی بیانات اور نظریاتی مخالفت کے لیے جانی جاتی ہیں، مقامی سطح پر اقتدار حاصل کرنے کے لیے ایک ہی صف میں کھڑی نظر آئیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، یہ وہی صورتحال ہے جسے مشہور ادیب جارج آرویل کے قول سے تعبیر کیا جا سکتا ہے کہ جب اقتدار ہی سب کچھ بن جائے تو سمجھوتے ناگزیر ہو جاتے ہیں۔ اکوٹ نگر پریشد کے انتخابات میں 35 میں سے 33 نشستوں پر ووٹنگ ہوئی، مگر کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت حاصل نہ ہو سکی۔ بی جے پی نے 11 نشستیں جیت کر سب سے بڑی پارٹی بننے کا اعزاز تو حاصل کیا، مگر اقتدار اتنی سیٹوں کے ساتھ اقتدار حاصل نہیں ہوسکتا تھا۔ ایسے میں بی جے پی رہنما مایا دھولے نے ’’اکوٹ وکاس منچ‘‘ کے نام سے ایک نیا مہا اتحاد قائم کیا اور میئر کا عہدہ حاصل کر لیا۔ حیرت انگیز طور پر اس اتحاد کو اکولا کے ضلعی مجسٹریٹ کے پاس باضابطہ طور پر رجسٹر بھی کرایا گیا۔ کس پارٹی کو کتنی نشستیں ملیں؟ اس مہا اتحاد میں وہ پارٹیاں بھی شامل ہو گئیں جو عموماً ایک دوسرے کی سخت مخالف سمجھی جاتی ہیں: بی جے پی: 11 نشستیں اے آئی ایم آئی ایم: 5 نشستیں پرہار جن شکتی پارٹی: 3 نشستیں شیوسینا (اُدھو گروپ): 2 نشستیں این سی پی (اجیت پوار): 2 نشستیں این سی پی (شرد پوار): 1 نشست اسی اتحاد کے ذریعے میئر کا عہدہ حاصل کیا گیا۔ بی جے پی کی مایا دھولے نے AIMIM امیدوار سکندر رانا فیروزآبادی کو 5271 ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ اس غیر معمولی اتحاد کے بعد اپوزیشن بنچ تقریباً خالی نظر آرہی ہے۔ اب صرف کانگریس اور ونچت بہوجن اگھاڑی اپوزیشن میں بچی ہیں، جنہوں نے بالترتیب 6 اور 2 نشستیں حاصل کی ہیں۔ امبرناتھ نگر پریشد میں بھی بی جے پی نے اقتدار حاصل کرنے کے لیے کانگریس کے ساتھ اتحاد کر لیا، جس کا مقصد شیوسینا (شندے گروپ) کو اقتدار سے باہر رکھنا تھا۔ بی جے پی کی تیجسری کرنجولے میئر منتخب ہوئیں۔ 32 کونسلروں کے اس اتحاد میں بی جے پی کے 14، کانگریس کے 12 اور این سی پی (اجیت پوار) کے 4 کونسلر شامل ہیں۔ اس اتحاد کو امبرناتھ وکاس اگھاڑی کا نام دیا گیا ہے۔ بی جے پی کے ان اتحادوں پر شیوسینا (شندے گروپ) نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ شندے گروپ کے رہنماؤں نے بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے اسے اصولوں سے عاری سیاست قرار دیا اور اس اتحاد کو ’’اَبھدر یُتی‘‘ (غیراخلاقی اتحاد) کا نام دیا۔ مہاراشٹر کی بلدیاتی سیاست میں یہ واقعات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اقتدار کی سیاست میں نظریات اکثر ثانوی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں، اور سیاسی بساط پر نئے نئے، چونکا دینے والے اتحاد جنم لیتے رہتے ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments