National

اجیت پوار کے طیارہ حادثہ کی اصل وجہ آئی سامنے، ایکسپرٹ اینالیسس میں ہوئے اہم انکشافات

اجیت پوار کے طیارہ حادثہ کی اصل وجہ آئی سامنے، ایکسپرٹ اینالیسس میں ہوئے اہم انکشافات

شہری ہوابازی کے ماہر اور کونسل آف انڈین ایویشن کے سربراہ نتن جادھو نے پونے کے بارامتی میں ہوئے وائی ایس آر-45 طیارہ حادثہ سے متعلق کچھ اہم جانکاریاں فراہم کی ہیں۔ انھوں نے طیارہ کے ماڈل اور سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعہ یہ سمجھایا ہے کہ حادثہ کے پیچھے کیا وجوہات ہیں۔ اپنی بات سامنے رکھنے کے لیے انھوں نے اے آئی فوٹیج کا بھی استعمال کیا ہے۔ نتن جادھو نے بتایا کہ وائی ایس آر-45 طیارہ کے دونوں انجن پیچھے کی طرف لگے ہوتے ہیں۔ انھوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج پیش کیا، جس میں طیارہ کے گرنے کا واقعہ ریکارڈ ہوا ہے۔ ان کے تجزیہ کے مطابق طیارہ کی لینڈنگ میں ویزبلٹی (مرئیت) محض 3 ہزار میٹر تھی، جبکہ اصولوں کے مطابق یہ کم از کم 5 ہزار میٹر ہونی چاہیے۔ ایئر ٹریفک کنٹرول (اے ٹی سی) نے بھی شروع میں خراب موسم کے سبب لینڈنگ سے منع کیا تھا۔ نتن جادھو کا کہنا ہے کہ چونکہ طیارہ میں وی آئی پی مسافر سوار تھے اور انھیں شام تک ممبئی پہنچنا تھا، اس لیے پائلٹ سُمت کپور نے صبح 8.40 بجے اے ٹی سی سے بات کرنے کے بعد رَنوے 11/29 پر کم ویزبلٹی ہونے کے باوجود لینڈنگ کا فیصلہ لیا۔ انھوں نے طیارہ کو بائیں طرف موڑا (لیفٹ ٹرن) اور دوبارہ رَنوے پر اتارنے کی کوشش کی۔ اس دوران طیارہ کی رفتار زیادہ تھی اور رَنوے صاف دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اس وجہ سے طیارہ کا بیلنس بگڑ گیا اور وہ ’اسٹال‘ کی حالت میں آ گیا۔ ایک بار طیارہ ’اسٹال‘ ہو جائے تو اسے کنٹرول کرنا بے حد مشکل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طیارہ نیچے گر گیا اور خوفناک دھماکہ ہوا۔ کونسل آف انڈین ایویشن کے چیف نے ایک اہم بات یہ بتائی کہ بارامتی ایئرپورٹ بنیادی طور سے ایک پائلٹ ٹریننگ ایئرپورٹ ہے۔ یہاں نہ تو موقفق سی سی ٹی وی کیمرے ہیں، نہ انسٹرومنٹل لینڈنگ سسٹم (آئی ایل ایس)، نہ ہی رَنوے کو روشن کرنے والی پی پی لائٹس، اور نہ ہی صاف رَنوے مارکنگ۔ ایسے میں پائلٹ پوری طرح سے ویزبلٹی پر منحصر رہتا ہے، جو اس دن بے حد کم ٹھی۔ ان کا کہنا ہے کہ طیارہ کو پونے یا کراڈ ایئرپورٹ پر اتارنا چاہیے تھا۔ اب نتن جادھو نے وزیر اعظم، مرکزی وزیر داخلہ، مرکزی وزیر برائے شہری ہوابازی اور مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ کو خط لکھ کر پورے معاملہ کی گہرائی سے جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے سوال اٹھایا ہے کہ طیارہ چلانے والی کمپنی نے گزشتہ 5-4 سال میں 25 نئے طیارے کیسے لیے؟ کیا اس کا روسٹر اور ڈی جی سی اے کے پروٹوکول پر عمل ہوتا تھا؟ انتخاب کے دوران پرواز بھرنے والے طیاروں میں کیا اصولوں کو نظر انداز کیا گیا؟ اپنے تجزیہ کو پختگی دینے کے لیے نتن جادھو نے اے آئی (آرٹیفیشیل انٹلیجنس) سے بنائی گئی ایک ویڈیو بھی دکھائی۔ اس ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح باراماتی ایئرپورٹ پر خراب ویزبلٹی کے سبب پائلٹ کے سامنے رَنوے دکھائی نہیں دے رہا ہوگا۔ اس سے یہ صاف ہوتا ہے کہ ایسے حالات میں لینڈنگ کتنا خطرناک تھا اور طیارہ کو کسی دیگر ایئرپورٹ پر ہی اتارا جانا چاہیے تھا۔

Source: Social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments