National

اگر مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد فرقہ پرستی کو کچل دیا جاتا تو ملک برباد نہ ہوتا: ارشد مدنی

اگر مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد فرقہ پرستی کو کچل دیا جاتا تو ملک برباد نہ ہوتا: ارشد مدنی

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے مہاتما گاندھی کے قتل اور آزادی کے بعد ملک کی سیاسی سمت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک تفصیلی پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ اگر گاندھی جی کے قتل کے فوراً بعد فرقہ پرست طاقتوں کو سختی سے کچل دیا جاتا تو آج ملک اس بربادی سے دوچار نہ ہوتا۔ مولانا مدنی نے الزام عائد کیا کہ آزادی کے بعد کانگریس نے فرقہ پرستی کے خلاف کمزور اور لچکدار پالیسی اختیار کی۔ ان کے مطابق مذہب کے نام پر نفرت پھیلانے والی سیاست کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن اقدامات نہیں کیے گئے۔ فرقہ پرست عناصر کے ساتھ نرمی برتی گئی اور آئین کے مطابق سخت قانونی کارروائی سے گریز کیا گیا، جس کے نتیجے میں یہ طاقتیں وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتی گئیں۔ مولانا ارشد مدنی نے یاد دلایا کہ مہاتما گاندھی کا قتل فرقہ پرست طاقتوں کے ہاتھوں ہوا تھا۔ تقسیم کے بعد جب ملک میں مسلم مخالف فسادات بھڑکے تو گاندھی جی نے انہیں روکنے کے لیے بھوک ہڑتال کی، لیکن یہ موقف بعض کانگریسی رہنماؤں کو بھی ناگوار گزرا۔ بالآخر گاندھی جی کو قتل کر دیا گیا، جسے مولانا مدنی نے ملک کی سیکولر روح کی علامتی قتل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند نے آزادی سے قبل ہی کانگریس سے تحریری یقین دہانی حاصل کی تھی کہ آزاد ہندوستان کا آئین سیکولر ہوگا اور تمام مذہبی اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی دی جائے گی۔ تقسیم کے بعد کچھ کانگریسی رہنماؤں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ مسلمانوں کے لیے الگ ملک بن چکا ہے، اس لیے آئین کو سیکولر نہیں ہونا چاہیے، مگر جمعیۃ کے دباؤ کے باعث سیکولر آئین تشکیل پایا۔ مولانا مدنی کے مطابق کانگریس نے مرکز اور ریاستوں میں طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے کے باوجود فرقہ پرستی پر مؤثر لگام نہیں لگائی۔ جمعیۃ علماء ہند مسلسل اس خطرے کی نشاندہی کرتی رہی، مگر اس پر سنجیدگی سے توجہ نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر 77 سال قبل سخت مؤقف اختیار کیا جاتا تو نہ کانگریس آج اقتدار سے باہر ہوتی اور نہ ہی ملک اس حال تک پہنچتا۔ مولانا ارشد مدنی نے نوجوان نسل سے اپیل کی کہ وہ تاریخ سے سبق حاصل کرے، کیونکہ آج آئین اور جمہوریت کے بنیادی کردار کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے بزرگوں کے بنائے ہوئے آئینی اصولوں کو ایمانداری سے نافذ کیا جاتا تو ملک کو آج ان حالات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ یہ بیان مولانا ارشد مدنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیا ہے، جس میں انہوں نے کانگریس کی پرانی پالیسیوں کو ملک اور آئین دونوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments