National

آگے کنواں، پیچھے کھائی جیسے حالات:راہل گاندھی

آگے کنواں، پیچھے کھائی جیسے حالات:راہل گاندھی

نئی دہلی۔14فروری ( ایجنسیز )کانگریس قائد راہول گاندھی نے ہفتہ کو وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت پر ہندستان۔امریکہ عبوری تجارتی معاہدے میں ٹیرف کی شرائط پر ملک کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا۔انہوں نے کہا کہ اس معاہدے سے ہندوستان میں کپاس کے کسانوں اور ٹیکسٹائل برآمد کنندگان بری طرح متاثر ہوں گے۔ راہول گاندھی نے نشاندہی کی کہ ہندوستانی ٹیکسٹائل پر امریکہ میں 18 فیصد ٹیرف لگایا جاتا ہے۔ وہیں بنگلہ دیش کو ٹیکسٹائل کی برآمدات پر صفر فیصد ٹیرف کا فائدہ اس شرط پر دیا جا رہا ہے کہ وہ امریکی کپاس درآمد کرے۔پالیسی فریم ورک پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ امریکی کپاس کی درآمد سے گھریلو کسانوں کو نقصان پہنچے گا جبکہ درآمد نہ کرنے سے ٹیکسٹائل انڈسٹری کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش ‘ ہندوستان سے کپاس کی درآمد کو کم کرنے یا روکنے کا اشارہ دے رہا ہے جس سے ہندوستان کے کپاس کے پروڈیوسرز کی صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں راہول نے لکھا کہ 18فیصد ٹیرف بمقابلہ صفرفیصد۔ میں بتاو¿ں گا کہ کس طرح ایکسپرٹ جھوٹے وزیر اعظم اور ان کی کابینہ اس معاملے پر کنفیوژن پھیلا رہے ہیںوہ کس طرح ہندوستان۔ امریکہ تجارتی معاہدے کے ذریعے ہندوستان کے کپاس کے کسانوں اور ٹیکسٹائل کے برآمد کنندگان کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ بنگلہ دیش کو امریکہ کو ملبوسات کی برآمدات پر صفر فیصد ٹیرف کا فائدہ دینے کی پیشکش کی جا رہی ہے بشرطیکہ وہ امریکی کپاس درآمد کرے۔ جبکہ ہندوستانی ملبوسات پر 18 فیصد ٹیرف کا اعلان کیا گیا ہے۔راہول گاندھی نے مزید کہا کہ، جب میں نے پارلیمنٹ میں بنگلہ دیش کو دی جانے والی خصوصی چھوٹ کے بارے میں سوال اٹھایا تو مودی حکومت کے ایک وزیر نے جواب دیا کہ اگر ہم وہی فوائد چاہتے ہیں تو ہمیں امریکہ سے کپاس درآمد کرنا پڑے گی۔ اس حقیقت کو اب تک ملک سے کیوں چھپایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ لاکھوں لوگوں کو بے روزگاری اور معاشی مشکلات میں دھکیل دے گا۔انہوں نے حکومت کے مذاکرات کے طریقہ کار کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ قومی مفاد میں ایک معاہدے سے کپاس کے کاشتکاروں اور ٹیکسٹائل برآمد کنندگان دونوں کا تحفظ ہونا چاہیے تھا۔ پوسٹ میں لکھا گیااور یہ کیسی پالیسی ہے؟ کیا یہ واقعی ایک انتخاب ہے، یا یہ ہمیں آگے کنواں، پیچھے کھائی کی صورت حال میں دھکیلنے کے لیے بنایا گیا ہے؟ پوسٹ میں مزید لکھا گیا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری اور کپاس کی کاشت ہندوستان کی روزی روٹی کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments