ممبئی، 6 فروری:ملک کی اردو صحافت کے منظرنامے میں ایک نہایت افسوسناک اور تشویش ناک باب کا اضافہ ہوا ہے ۔ ملک میں سب سے زیادہ ایڈیشن شائع کرنے والے اردو روزنامہ راشٹریہ سہارا کے ممبئی، بینگلور اور کولکاتا ایڈیشن پہلے ہی بند کیے جاچکے تھے ، اب حیدرآباد، لکھن¶، نئی دہلی، پٹنہ، کانپور اور گورکھپور کے ساتھ اس کے تمام ایڈیشن مکمل طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔ اس طرح اردو صحافت کا ایک بڑا اور بااثر ادارہ عملی طور پر صفحئہ ہستی سے مٹ گیا ہے ۔ قابلِ ذکر ہے کہ اس سے قبل 8 جنوری کو سہارا گروپ کی جانب سے ملک بھر میں شائع ہونے والے تمام ہندی سہارا اخبارات کو بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا جا چکا تھا۔ اس فیصلے کے بعد اب اردو روزنامہ راشٹریہ سہارا کے تمام ایڈیشنز کی بندش نے اردو صحافت سے وابستہ حلقوں کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا ہے ۔ سہارا انڈیا پریوار کے تحت سہارا انڈیا ماس کمیونی کیشن (ایس آئی ایم سی) نے جب میڈیا کے میدان میں قدم رکھا تو اردو صحافت میں ایک نئی امید پیدا ہوئی۔ ابتدا میں اردو راشٹریہ سہارا کو ہفتہ روزہ کی شکل میں جاری کیا گیا، جس کے پہلے مدیر ماجد رمن مقرر ہوئے ۔ بعد ازاں معروف ہندی ادیب کملیشور کو بھی ادارتی ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ کچھ عرصے بعد اردو صحافت کے ممتاز نام عزیز برنی کو مدیرِ اعلیٰ مقرر کیا گیا۔ ان کی قیادت میں اردو راشٹریہ سہارا نے نہ صرف صحافتی معیار کو بلند کیا بلکہ چند ہی برسوں میں ہفتہ روزہ سے روزنامہ کی حیثیت اختیار کر لی۔ نئی دہلی، لکھن¶ اور گورکھپور سے اشاعت کے بعد 2006 کے بعد ممبئی، پٹنہ، کولکتہ، حیدرآباد اور بینگلور جیسے بڑے شہروں سے بھی اس کے ایڈیشن شائع ہونے لگے ۔ ایک وقت تھا جب راشٹریہ سہارا کو اردو صحافت کے سب سے طاقتور اور وسیع نیٹ ورک والے ادارے کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ اخبار کے ساتھ ساتھ سہارا اردو چینل کا آغاز بھی کیا گیا، جس نے ناظرین میں خاصی مقبولیت حاصل کی۔ اس دور کو سہارا میڈیا گروپ کا سنہرا دور کہا جاتا ہے ، جب ادارہ مالی طور پر مضبوط، ادارتی طور پر بااثر اور تکنیکی اعتبار سے جدید سمجھا جاتا تھا۔ اردو صحافت میں سہارا نے نوجوان صحافیوں کو مواقع فراہم کیے اور ملک بھر میں اردو صحافت کو ایک نئی شناخت دی۔ سال 2011 کے بعد سہارا گروپ کو درپیش پیرا بینکنگ بحران نے پورے ادارتی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس بحران کا اثر نہ صرف مالیاتی شعبے پر پڑا بلکہ میڈیا ڈویژن بھی اس کی لپیٹ میں آ گیا۔ آہستہ آہستہ ایک ایک ایڈیشن میں کاسٹ کٹنگ شروع ہوئی، عملہ کم کیا گیا، سہولیات گھٹتی گئیں اور تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر معمول بنتی چلی گئی۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران پہلے ممبئی، کولکاتا اور بینگلور کے ایڈیشن بند کیے گئے ، جس سے یہ واضح ہو گیا تھا کہ حالات سنگین رخ اختیار کر چکے ہیں۔ تاہم اب اچانک نئی دہلی، پٹنہ، حیدرآباد، گورکھپور اور لکھن¶ کے ایڈیشن بھی بند کیے جانے سے یہ بحران اپنے نقطئہ عروج پر پہنچ گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق ان تمام ایڈیشنز کے ایچ او ڈی سے استعفے لیے گئے جبکہ دیگر صحافتی و غیر صحافتی عملے سے بھی استعفے طلب کیے گئے ہیں۔ سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ متاثرہ ملازمین کو کسی قسم کی عبوری مالی راحت، معاوضہ یا قانونی تحفظ فراہم نہیں کیا گیا۔ کئی صحافی ایسے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے قیمتی سال اس ادارے کو دیے ، مگر آج وہ بے روزگاری اور معاشی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ راشٹریہ سہارا کے بند ہونے سے صرف ایک ادارہ ہی ختم نہیں ہوا بلکہ اردو صحافت کا ایک بڑا پلیٹ فارم بھی ختم ہو گیا ہے ۔ اس بندش سے اردو صحافیوں، قارئین اور اردو داں طبقے میں مایوسی اور تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ پہلے ہی اشتہارات کی کمی، ڈیجیٹل دبا¶ اور سرکاری سرپرستی کے فقدان سے اردو اخبارات مشکلات کا شکار ہیں، ایسے میں روزنامہ راشٹریہ سہارا جیسے بڑے ادارے کا بند ہونا ایک خطرناک اشارہ ہے ۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر اردو میڈیا کے لیے پالیسی سطح پر سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ برسوں میں مزید اردو اخبارات بند ہونے کا خدشہ ہے ۔ اردو صحافت محض زبان کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ملک کی تہذیبی، سماجی اور فکری شناخت سے جڑی ہوئی ہے ۔ روزنامہ راشٹریہ سہارا کا اختتام اردو صحافت کے لیے ایک وارننگ بھی ہے ۔
Source: UNI NEWS
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو