National

ادھو ٹھاکرے کو بڑا جھٹکا، شیوسینا (یو بی ٹی) کے چھ ممبران پارلیمنٹ شیوسینا میں شامل، ایکناتھ شندے نے کیا خیرمقدم

ادھو ٹھاکرے کو بڑا جھٹکا، شیوسینا (یو بی ٹی) کے چھ ممبران پارلیمنٹ شیوسینا میں شامل، ایکناتھ شندے نے کیا خیرمقدم

ممبئی: مہاراشٹر کی سیاست میں پیر کے روز ایک اہم پیش رفت کے دوران شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے چھ لوک سبھا ارکان پارلیمنٹ نے نائب وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیوسینا میں شمولیت اختیار کر لی۔ اس پیش رفت کو ادھو ٹھاکرے دھڑے کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ شیوسینا ایکناتھ شندے کا دامن تھامنے والے ارکان میں سنجے ہری بھاؤ جادھو، بھاؤ صاحب راجارام واکچورے، اوم پرکاش بھوپال سنگھ نمبالکر، سنجے دینا پاٹل، سنجے اتم راؤ دیشمکھ اور ناگیش باپوراؤ پاٹل اشٹیکر شامل ہیں۔ اس موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیوسینا سربراہ اور مہاراشٹر کے نائب وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے نے کہا کہ یہ 2022 میں شروع ہونے والی سیاسی تحریک کا دوسرا مرحلہ ہے، جس کا مقصد بالا صاحب ٹھاکرے کی اصل شیوسینا اور اس کے نظریات کا تحفظ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان ارکان پارلیمنٹ نے کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ اپنے اپنے حلقوں کی ترقی اور عوام کی بہتر خدمت کے لیے شیوسینا میں شمولیت اختیار کی ہے۔ ایکناتھ شندے نے شیوسینا (یو بی ٹی) کے رہنما سنجے راوت پر بھی طنز کرتے ہوئے کہا کہ اب ان کی جماعت میں تین ’’سنجے‘‘ موجود ہیں، اس لیے کسی دوسرے سنجے کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ ’عوام نے 2022 کے فیصلے کی توثیق کی‘ انہوں نے کہا کہ 2022 میں جب 40 ارکان اسمبلی نے ان کے ساتھ بغاوت کی تھی تو عوام نے بعد کے انتخابات میں اس فیصلے کی توثیق کی، جس کے نتیجے میں شیوسینا کے ارکان اسمبلی کی تعداد بڑھ کر 60 ہوگئی۔ شندے نے کہا کہ اوم راجے نمبالکر سمیت تمام ارکان نے اپنے کارکنوں سے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا اور وہ صرف اپنے حلقوں کی ترقی کے مقصد سے ان کے ساتھ آئے ہیں۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے لوک سبھا میں مجموعی طور پر نو ارکان تھے۔ گزشتہ ہفتے پارٹی کی پارلیمانی میٹنگ میں صرف تین ارکان شریک ہوئے تھے، جس کے بعد چھ ارکان کی ممکنہ بغاوت کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی تھیں۔ پارٹی نے ان باغی ارکان کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔ 2022 میں ایکناتھ شندے نے متعدد ارکان اسمبلی کے ساتھ ادھو ٹھاکرے سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے شیوسینا کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا، اور اب چھ ارکان پارلیمنٹ کی شمولیت کو اسی سیاسی تبدیلی کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments