National

اب نجی مقامات پر بھی نماز پڑھنے کی اجازت نہیں، الہ آباد ہائی کورٹ نے انتظامیہ کو کارروائی کرنے کی دی چھوٹ

اب نجی مقامات پر بھی نماز پڑھنے کی اجازت نہیں، الہ آباد ہائی کورٹ نے انتظامیہ کو کارروائی کرنے کی دی چھوٹ

پریاگ راج: الہ آباد ہائی کورٹ نے بشارت گنج کے محمد گنج گاؤں میں خالی مکان میں اجتماعی نماز پڑھنے کے معاملے میں اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے اپنے تبصرے میں کہا کہ نجی ملکیت پر بھیڑ جمع کر کے نماز ادا کرنا مناسب نہیں ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر امن و امان متاثر ہو تو انتظامیہ کارروائی کرنے کے لیے آزاد ہے۔ عدالت نے کہا کہ ذاتی تحفظ اور نجی ملکیت کی آڑ میں عوامی نظم و نسق اور امن عامہ کو خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔ یہ حکم جسٹس سَرل شریواستو اور جسٹس گریما پرساد کی بنچ نے بریلی کے رہائشی طارق خان کی عرضی نمٹاتے ہوئے دیا۔ جنوری میں بشارت گنج کے محمد گنج گاؤں میں حسین خان کے خالی پڑے مکان میں اجتماعی نماز ادا کی جا رہی تھی۔ اس معاملے میں پولیس نے 12 افراد کو حراست میں لے کر کارروائی کی تھی۔ مقامی لوگوں کی شکایت پر اسے غیر قانونی مدرسہ اور بغیر اجازت اجتماع قرار دیا گیا تھا۔ معاملہ بڑھنے کے بعد کیس الہ آباد ہائی کورٹ پہنچ گیا۔ اس کیس میں عرضی گزار طارق خان نے نجی ملکیت پر نماز پڑھنے سے روکنے اور امن و امان میں خلل کے الزام میں کیے گئے چالان کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت میں عرضی دائر کی تھی۔ اس معاملے میں عدالت کے حکم پر ضلع مجسٹریٹ اویناش سنگھ اور ایس ایس پی انوراگ آریہ ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہوئے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل انوپ ترویدی نے کہا کہ عرضی گزار ذاتی تحفظ کی آڑ میں قوانین کا غلط استعمال کر رہا ہے۔ عدالت کو حلف نامے اور شواہد کے ذریعے بتایا گیا کہ نجی ملکیت پر روزانہ 50 سے 60 افراد نماز کے لیے جمع ہو رہے تھے، جس سے علاقے کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور سکیورٹی کو خطرہ لاحق تھا۔ حکومت کی طرف سے دلیل پیش کی گئی کہ قانون و انتظام برقرار رکھنا حکام کی اولین ذمہ داری ہے اور ایسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جا سکتی جو عوامی امن میں خلل ڈالیں۔ اس پر عرضی گزار کے وکیل راجیش کمار گوتم نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ مستقبل میں مذکورہ جائیداد پر نماز کے لیے بڑی تعداد میں لوگوں کو جمع نہیں کیا جائے گا۔ عدالت نے کہا کہ اگر دوبارہ نماز کے بہانے بھیڑ جمع کی گئی اور علاقے کا امن متاثر ہوا تو ضلع انتظامیہ اور پولیس قانون کے مطابق سخت کارروائی کرنے کے لیے مکمل طور پر آزاد ہوں گے۔ عدالت نے عرضی گزار اور دیگر متعلقہ افراد کے خلاف 16 جنوری 2026 کو جاری چالان فوری طور پر واپس لینے کی ہدایت دی اور اس معاملے میں پہلے جاری کیے گئے توہین عدالت کے نوٹس بھی منسوخ کر دیے۔ مکان مالک حسین خان نے اپنے وکیل کے ذریعے عدالت کو بتایا کہ انہیں اب سکیورٹی کی ضرورت نہیں ہے۔ اس پر عدالت نے انتظامیہ کو فراہم کردہ سکیورٹی واپس لینے کی ہدایت جاری کر دی۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments