نئی دہلی: دہلی فسادات 2020 کے ملزم شرجیل امام اورعمرخالد کو ایک بار پھرعدالت سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ دہلی کی کڑکڑڈوما عدالت نے دونوں ملزمان کی ضمانت عرضی خارج کردی ہے اورضمانت نہیں دی ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ کڑکڑڈوما کورٹ نے جب فیصلہ سنایا تواس میں ضمانت عرضی خارج کردی گئی۔ اس طرح سے عمرخالد اورشرجیل امام ابھی جیل میں ہی رہیں گے۔ سماعت کے دوران شرجیل امام کی جانب سے پیش ہوئے وکیل طالب مصطفیٰ نے دلیل دی کہ کیا کسی ملزم پرایک سال تک ضمانت کی درخواست دائرنہ کرنے جیسی پابندی عائد کی جا سکتی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پرسپریم کورٹ کی بڑی بینچ کوبھی غورکرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس کیس کے بعض دیگرملزمان کومقدمہ بڑی بنچ کے سپرد کئے جانے کا فائدہ ملا ہے۔ دہلی پولیس کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے مؤقف اختیارکیا کہ جب تک سپریم کورٹ کی بڑی بینچ کی جانب سے کوئی وضاحت سامنے نہیں آتی، تب تک سپریم کورٹ کے موجودہ نتائج، ہدایات اورپابندیاں نافذ العمل رہیں گی۔ سرکاری وکیل نے مزید کہا کہ اگرملزمان کوکسی قسم کی شکایت یا اعتراض تھا توانہیں وضاحت کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنا چاہئے تھا، کیونکہ اس معاملے کا درست فورم سپریم کورٹ ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بار سپریم کورٹ فیصلہ دے چکی ہے توماتحت عدالت اس میں مداخلت نہیں کرسکتی۔ دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔ دراصل، دہلی فسادات کے مبینہ سازشی منصوبے سے متعلق مقدمے میں ملزم عمرخالد اورشرجیل امام نے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد نئی ضمانت کی درخواستیں دائرکی ہیں، جس میں انہیں ضمانت نہ دینے کے لئے اختیارکی گئی تشریح پرسوالات اٹھائے گئے تھے۔ عمرخالد نے اپنی درخواست میں کہا کہ وہ تقریباً 6 سال سے عدالتی تحویل میں ہیں، حالانکہ ابھی تک ان کے خلاف فردِ جرم بھی عائد نہیں کی گئی۔ انہوں نے مؤقف اختیارکیا کہ مقدمے میں ملزمان، گواہوں اوراستغاثہ کی دستاویزات کی بڑی تعداد کودیکھتے ہوئے جلد سماعت شروع ہونے کا امکان کم ہے۔ دوسری جانب، شرجیل امام نے اپنی درخواست میں کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے ضمانت مسترد کئے جانے کے 6 ماہ بعد بھی مقدمے کی کارروائی میں کوئی “نمایاں پیش رفت” نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ بغیرمقدمے کے تقریباً 6 سال سے حراست میں ہیں اوراس کیس میں ابھی تک فردِ جرم عائد ہونا باقی ہے۔ یہ نئی ضمانت کی درخواستیں اس وقت دائرکی گئیں، جب سپریم کورٹ نے 5 جنوری کویواے پی اے (یواے پی اے) کے تحت درج مقدمے میں عمرخالد اورشرجیل امام دونوں کی ضمانت مسترد کردی تھی، جبکہ شریکِ ملزمان گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، شفاء الرحمٰن، محمد سلیم خان اورشاداب احمد کوراحت فراہم کی گئی تھی۔
Source: social media
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات