National

عدالت نے عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کا معاملہ بڑی بنچ کو بھیجا، تسلیم احمد اور خالد سیفی کو دی عبوری ضمانت

عدالت نے عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کا معاملہ بڑی بنچ کو بھیجا، تسلیم احمد اور خالد سیفی کو دی عبوری ضمانت

نئی دہلی، 22 مئی : سپریم کورٹ نے جمعہ کو دہلی فسادات کے ملزم عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینے سے انکار کرنے والے اپنے 5 جنوری 2026 کے فیصلے سے پیدا ہوئے معاملے کو بڑی بنچ کو بھیج دیا۔ وہیں معاملے کے دو دیگر ملزمین تسلیم احمد اور خالد سیفی کو چھ ماہ کی عبوری ضمانت دے دی۔ عدالت نے ہدایت دی کہ اس معاملے کو چیف جسٹس آف انڈیا کے سامنے رکھا جائے تاکہ قانونی موقف واضح ہو سکے ، خاص طور پر غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے ) کی دفعہ 43 ڈی (5) کے معنی اور استعمال کے بارے میں، جو ضمانت دینے کے لیے سخت شرائط عائد کرتی ہے ۔ یہ فیصلہ جسٹس بی وی ناگ رتنا اور اجل بھویان کی ایک اور دو ججوں کی بنچ کی سماعت کے کچھ دنوں بعد سامنے آیا ہے ، جس نے 18 مئی کو سید افتخار اند رابی کو ضمانت دیتے ہوئے گلفشاں فاطمہ معاملے میں 5 جنوری 2026 کے فیصلے کے درست ہونے پر سوال اٹھائے تھے ، جس میں عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینے سے منع کر دیا گیا تھا۔ گزشتہ 18 مئی کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ جنوری 2026 کا فیصلہ کے اے نجیب معاملے میں تین ججوں کی بنچ کی طرف سے طے کیے گئے اصولوں سے میل نہیں کھاتا، جس میں کہا گیا تھا کہ طویل عرصے تک جیل میں رکھنا اور ٹرائل ختم ہونے میں تاخیر یو اے پی اے کے سخت قوانین کے تحت بھی ضمانت دینے کو درست ٹھہرا سکتی ہے ۔ جمعہ کی سماعت کے دوران ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل ایس وی راجو نے عدالت سے یو اے پی اے معاملات میں 'ضمانت ضابطہ ہے اور جیل استثنیٰ ہے ' کے اصول کو بڑھانے والے حالیہ مشاہدات پر دوبارہ غور کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے دلیل دی کہ دہشت گردی مخالف قانون کے تحت ضمانت کی درخواستوں کا جائزہ ہر معاملے کے مخصوص حقائق اور سنگینی کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے اور یو اے پی اے کے تحت سخت قانونی پابندیاں آئین کی دفعہ 21 کی خلاف ورزی نہیں کرتی ہیں۔ بنچ نے کہا کہ جنوری 2026 کے فیصلے نے کے اے نجیب فیصلے کو نظر انداز نہیں کیا تھا لیکن بعد میں اندرابی معاملے میں کیے گئے مشاہدات نے اس کے منطق پر سوال اٹھایا تھا۔ عدالت نے کہا کہ برابر تعداد والی بنچ کسی دوسری بنچ کی دلیل کو م¶ثر طریقے سے بدل نہیں سکتی ہے اور ایسے اختلافات کے لیے ایک بڑی بنچ کے ذریعے باضابطہ حل کی ضرورت ہوتی ہے ۔ عدالت نے یہ حوالہ دیتے ہوئے صاف کیا کہ اس کے حکم میں 2021 کے کے اے نجیب فیصلے کے اختیار کو کم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ واضح رہے کہ دہلی فسادات کی سازش کا معاملہ فروری 2020 میں شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے ) کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فرقہ وارانہ تشدد سے متعلق ہے ، جس میں 50 سے زائد لوگ مارے گئے تھے ۔

Source: UNI NEWS

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments