National

عدالت کی سرزنش کے بعد این سی ای آر ٹی نے عوامی معافی نامہ جاری کیا، پوری کتاب واپس لینے کا فیصلہ

عدالت کی سرزنش کے بعد این سی ای آر ٹی نے عوامی معافی نامہ جاری کیا، پوری کتاب واپس لینے کا فیصلہ

نئی دہلی: سپریم کورٹ کی سخت سرزنش کے بعد نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) نے آج بروز منگل عدلیہ میں "بدعنوانی" پر ایک باب شائع کرنے کے لیے عوامی طور پر معافی مانگی۔ ادارے نے اس کے لیے باضابطہ ایک معافی نامہ جاری کیا۔ این سی ای آر ٹی نے پریس ریلیز کے طور پر معافی نامہ جاری کرتے ہوئے لکھا کہ ''نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ نے حال ہی میں گریڈ آٹھ کی سماجی سائنس کی ایک نصابی کتاب ''ایکسپلورنگ سوسائٹی: انڈیا اینڈ بیونڈ'' (حصہ II) شائع کی، اس کتاب کے سبق نمبر چار کا عنوان 'ہمارے معاشرے میں عدلیہ کا کردار' تھا۔ این سی ای آر ٹی کے ڈائریکٹر اور ممبران اس باب کے لیے غیر مشروط معافی مانگتے ہیں۔ اب یہ پوری کتاب واپس لے لی گئی ہے اور دستیاب نہیں ہے۔'' ادارے نے معافی طلب کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم اس پریشانی کے لیے خلوص دل سے معافی مانگتے ہیں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی سمجھ بوجھ کی سراہنا کرتے ہیں۔ این سی ای آر ٹی تعلیمی مواد میں درستگی، حساسیت اور ذمہ داری کے اعلیٰ ترین معیار کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔'' یہ پورا معاملہ اس وقت سامنے آیا ہے جب سپریم کورٹ نے این سی ای آر ٹی کو نصابی کتاب میں عدلیہ میں "بدعنوانی" اور "بیک لاگ" پر تحریر کیے گئے ایک باب پر سخت سرزنش کی اور اسے "گہری اور منصوبہ بند سازش" قرار دیا۔ عدالت عظمیٰ نے این سی ای آر ٹی کے ڈائریکٹر اور اسکول ایجوکیشن سکریٹری کو بھی وجہ بتاؤ نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے وضاحت طلب کی کہ نصابی کتاب کے متنازع مواد پر ان کے خلاف کارروائی کیوں نہ کی جائے۔ سپریم کورٹ نے این سی ای آر ٹی کی عدلیہ میں "بدعنوانی" سے متعلق باب والی نصابی کتاب کی فزیکل اور ڈیجیٹل کاپیوں کو ضبط کرنے کی بھی ہدایت دی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوائے مالیہ باغچی اور وپل ایم پنچولی کی بنچ نے حکم دیا کہ "این سی ای آر ٹی کو مرکزی اور ریاستی تعلیمی محکموں کے ساتھ ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کتاب کی جاری کی گئی تمام کاپیاں (فزیکل اور ڈیجیٹل)، خواہ وہ اسٹوریج، ریٹیل آؤٹ لیٹس، یا تعلیمی اداروں میں رکھی گئی ہوں، کو ضبط کر لیا جائے اور عوام کی رسائی سے ہٹا دیا جائے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments