National

اعظم گڑھ شیعہ۔سنی فساد کے27سال پرانے معاملے میں 12 ملزمان قصوروار قرار

اعظم گڑھ شیعہ۔سنی فساد کے27سال پرانے معاملے میں 12 ملزمان قصوروار قرار

اعظم گڑھ 13 فروری: اترپردیش کے ضلع اعظم گڑھ کی دیوانی عدالت نے 27 سال قبل مبارک پور قصبے میں پیش آئے شیعہ-سنی فسادات کے دوران ایک قتل کے معاملے میں آج فیصلہ سنایا ہے ۔ ضلع جج جے پرکاش پانڈے کی عدالت نے سماعت مکمل ہونے کے بعد 12 ملزمان کو قصوروار قرار دیا ہے ۔ عدالت نے سزا سنانے کے لیے 17 فروری کی تاریخ مقرر کی ہے ۔ قصوروار قرار دیے گئے افراد میں حسین احمد، محمد ایوب فیضی، فہیم اختر، اسرار احمد، محمد یعقوب، علی ظہیر، ارشاد، محمد اشہد، افضل، علا¶الدین، دلشاد اور وسیم شامل ہیں۔ یہ تمام افراد مبارک پور قصبے کے مختلف محلوں کے رہائشی بتائے گئے ہیں۔ اس مقدمے میں پانچ دیگر ملزمان کی سماعت کے دوران موت ہو چکی ہے ۔ ضلعی سرکاری وکیل (فوجداری) پریہ درشی پیوش ترپاٹھی اور اے ڈی جی سی دیپک کمار مشرا کے مطابق، مقدمے کے مدعی ناصر حسین نے 30 اپریل 1999 کو مبارک پور تھانے میں رپورٹ درج کرائی تھی۔ درخواست میں بتایا گیا تھا کہ ان کے چچا علی اکبر، ساکن پورا خواجہ، 27 اپریل 1999 سے لاپتہ تھے ۔ 28 اپریل کو ان کے بیٹے زیغم نے گمشدگی کی اطلاع دی تھی۔ 30 اپریل کو علی اکبر کی سر کٹی لاش راجا بھاٹ کے پوکھرے سے برآمد ہوئی تھی۔ تفتیش میں انکشاف ہوا کہ محرم کے جلوس سے واپسی کے دوران علی اکبر کو مار پیٹ کر قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس معاملے میں ملزمان کے خلاف چارج شیٹ عدالت میں فائل کی۔ استغاثہ کی جانب سے مجموعی طورپرنو گواہوں کے بیانات قلم بند کیے گئے ۔ دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے مذکورہ 12 ملزمان کو علی اکبر کے قتل کا مجرم قرار دیا۔ اب 17 فروری کو سزا سے متعلق حتمی فیصلہ سنایاجائے گا۔

Source: UNI NEWS

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments