National

1961 کا قانون ختم، نیا ٹیکس نظام نافذ: ایچ آر اے، آئی ٹی آر اور دیگر 10 اہم قواعد میں بڑی تبدیلیاں

1961 کا قانون ختم، نیا ٹیکس نظام نافذ: ایچ آر اے، آئی ٹی آر اور دیگر 10 اہم قواعد میں بڑی تبدیلیاں

نئی دہلی: حکومت نے ٹیکس نظام کو آسان اور زیادہ شفاف بنانے کے مقصد سے نیا انکم ٹیکس قانون 2025 نافذ کر دیا ہے، جو یکم اپریل 2026 یعنی سے عمل میں آ گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تقریباً 65 سال پرانا انکم ٹیکس قانون 1961 اب ختم ہو چکا ہے۔ نئے قانون کے تحت نہ صرف ٹیکس کی اصطلاحات کو سادہ بنایا گیا ہے بلکہ کئی اہم قواعد میں تبدیلی بھی کی گئی ہے، جس کا براہ راست اثر عام ٹیکس دہندگان، ملازمین اور سرمایہ کاروں پر پڑے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اصلاحات ٹیکس نظام کو کم پیچیدہ بنانے اور ٹیکس فائلنگ کے عمل کو سہل کرنے کے لیے کی گئی ہیں۔ اس نئے نظام میں خاص طور پر آئی ٹی آر، ایچ آر اے ٹیکس ایئر، الاؤنسز اور دیگر کئی پہلوؤں میں نمایاں تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔ سب سے بڑی تبدیلی ٹیکس ایئر کے تصور میں کی گئی ہے۔ اب مالی سال (فنانشل ایئر) اور اسسمنٹ ایئر کی الجھن کو ختم کرتے ہوئے صرف ایک "ٹیکس ایئر" متعارف کرایا گیا ہے۔ اس سے ٹیکس دہندگان کو حساب کتاب میں آسانی ہوگی اور وہ ایک ہی سال کے حساب سے اپنی آمدنی اور ٹیکس کی تفصیل دے سکیں گے۔ آئی ٹی آر فائل کرنے کی آخری تاریخ میں بھی جزوی تبدیلی کی گئی ہے۔ آئی ٹی آر-1 اور آئی ٹی آر-2 کے لیے آخری تاریخ بدستور 31 جولائی برقرار رکھی گئی ہے، جبکہ آئی ٹی آر-3 اور آئی ٹی آر-4 کے لیے ڈیڈ لائن بڑھا کر 31 اگست کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے سے خاص طور پر کاروباری افراد اور پیشہ ور طبقے کو کچھ اضافی وقت ملے گا۔ شیئر بازار میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے بھی نئے ضوابط متعارف کرائے گئے ہیں۔ سیکیورٹیز ٹرانزیکشن ٹیکس (ایس ٹی ٹی) میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے باعث فیوچر اور آپشن (ایف اینڈ او) ٹریڈنگ مہنگی ہو گئی ہے۔ اس تبدیلی کا مقصد مارکیٹ میں غیر ضروری قیاس آرائی کو کم کرنا بتایا جا رہا ہے۔ مکان کرایہ بھتہ (ایچ آر اے) کے قواعد میں بھی سختی لائی گئی ہے۔ اب ملازمین کو ایچ آر اے کلیم کرنے کے لیے مکان مالک کا پین نمبر اور کرایہ کی ادائیگی کا مستند ثبوت فراہم کرنا ہوگا۔ بعض صورتوں میں مکمل تفصیلات دینا لازمی ہوگا۔ اس کے علاوہ بڑے شہروں کی فہرست میں توسیع کی گئی ہے، جس کے تحت اب مزید شہروں کو 50 فیصد ایچ آر اے چھوٹ کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔ کمپنیوں کی جانب سے دیے جانے والے فوڈ کارڈ پر ٹیکس فری حد کو بڑھا دیا گیا ہے۔ پہلے یہ حد 50 روپے فی میل تھی، جسے اب بڑھا کر 200 روپے فی میل کر دیا گیا ہے۔ اس سے ملازمین کو روزمرہ اخراجات میں کچھ ریلیف ملنے کی امید ہے۔ اسی طرح گفٹ کارڈ اور واؤچر پر ٹیکس چھوٹ کی حد بھی بڑھائی گئی ہے۔ پہلے سالانہ 5 ہزار روپے تک کی چھوٹ تھی، جسے اب 15 ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔ یہ سہولت پرانے اور نئے دونوں ٹیکس نظام کے تحت دستیاب ہوگی۔ بچوں کے تعلیمی الاؤنس میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ اب ہر بچے کے لیے ایجوکیشن الاؤنس 100 روپے سے بڑھا کر 3 ہزار روپے ماہانہ کر دیا گیا ہے، جبکہ ہاسٹل الاؤنس 300 روپے سے بڑھا کر 9 ہزار روپے ماہانہ کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد تعلیم کے بڑھتے اخراجات میں والدین کو کچھ سہارا دینا ہے۔ شیئر بائے بیک پر ٹیکس کے نظام میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔ پہلے اسے ڈیویڈنڈ کے طور پر ٹیکس کیا جاتا تھا، لیکن اب اسے کیپیٹل گین کے زمرے میں شامل کر دیا گیا ہے۔ اس سے کچھ سرمایہ کاروں پر ٹیکس کا بوجھ بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر بڑے سرمایہ کاروں اور پروموٹرز پر۔ پین کارڈ کے اصولوں کو بھی سخت بنایا گیا ہے۔ اب صرف آدھار کی بنیاد پر پین حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا، بلکہ اضافی دستاویزات بھی درکار ہوں گے۔ اس کے علاوہ بڑے مالی لین دین، جیسے زیادہ رقم جمع کرانا، گاڑی خریدنا یا جائیداد خریدنے پر پین لازمی کر دیا گیا ہے۔ انکم ٹیکس کے مختلف فارموں کے نام بھی تبدیل کیے گئے ہیں۔ مثلاً فارم 16 کی جگہ فارم 130، فارم 16A کی جگہ فارم 131 اور فارم 26AS کی جگہ فارم 168 متعارف کرایا گیا ہے۔ تاہم ان فارموں کے کام میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، صرف نام بدلے گئے ہیں تاکہ نظام کو جدید شکل دی جا سکے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو نیا انکم ٹیکس قانون 2025 ٹیکس دہندگان کے لیے کچھ سہولتیں اور کچھ نئی ذمہ داریاں لے کر آیا ہے۔ آنے والے وقت میں اس کے اثرات واضح ہوں گے، لیکن ابتدائی طور پر یہ قدم ٹیکس نظام کو سادہ اور منظم بنانے کی سمت ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments