International

زیادہ دیر نہیں لگے گی، یہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی: ٹرمپ

زیادہ دیر نہیں لگے گی، یہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جب پوچھا گیا کہ کیا ایران کے خلاف جاری جنگ اس ہفتے ختم ہو سکتی ہے، کیونکہ انھوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی فوجی طاقت کو ’تباہ‘ کر دیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’ہاں، بالکل‘۔ لیکن جب پوچھا گیا کہ کیا جنگ واقعی اس ہفتے ختم ہو جائے گی تو انھوں نے کہا کہ ’مجھے نہیں لگتا، لیکن جلد ہی ختم ہو جائے گی۔ زیادہ دیر نہیں لگے گی۔‘ ٹرمپ نے کہا کہ یہ سب کرنا ان پر ’فرض‘ تھا اور جنگ کے بعد دنیا ’زیادہ محفوظ‘ ہو جائے گی۔ ٹرمپ نے B-2 بمبار طیارے کا ماڈل اٹھایا اور کہا کہ اگر انھوں نے گذشتہ برس ایران کی جوہری تنصیبات پر فضائی حملے کا حکم نہ دیا ہوتا تو تہران کے پاس اب تک جوہری ہتھیار موجود ہوتے۔ ان حملوں میں B-2 بمبار طیارے استعمال کیے گئے تھے، جنھیں امریکہ نے ’مڈنائٹ ہیمر‘ کا کوڈ نام دیا تھا۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ’ہم نے یہ نہ کیا ہوتا‘ تو ایک ’ایٹمی جنگ، تیسری عالمی جنگ‘ شروع ہو جاتی۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس اب صرف تقریباً 8 فیصد میزائل اور چند حملہ آور ڈرون باقی رہ گئے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ کچھ ممالک نے انھیں ’شدید مایوس‘ کیا ہے کیونکہ انھوں نے ایران کے خلاف امریکی جنگ میں تعاون نہیں کیا۔ ٹرمپ نے خاص طور پر نیٹو ممالک کا ذکر کیا اور بتایا کہ انھوں نے برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر سے بات کی تھی، جو پہلے ہچکچائے لیکن بعد میں کچھ مدد کی پیشکش کی۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’مجھے آپ کے ایئرکرافٹ کیریئرز کی ضرورت نہیں، جب ہم پہلے ہی جنگ جیت چکے ہیں۔‘ تاہم ٹرمپ نے کہا کہ کچھ ممالک امریکہ کے منصوبے میں مدد کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں تاکہ آبنائے ہرمز کو محفوظ بنایا جا سکے، کیونکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے ان ممالک کی نشاندہی نہیں کی لیکن کہا کہ جنوبی کوریا، جاپان اور چین جیسے ممالک کو بھی امریکہ کی مدد کرنی چاہیے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments