Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

بنگال کے وزیرِ اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری کا عزم، 2029 میں بی جے پی مغربی بنگال کی ’تمام‘ لوک سبھا نشستیں جیتے گی

Admin
By Admin
Oct 08, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

BIHAR KE VAISHALI MEIN UNDER CONSTRUCTION BRIDGE KA HISSA GIRA, KAI MAZDOOR ZAKHMI

بنگال کے وزیرِ اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری کا عزم، 2029 میں بی جے پی مغربی بنگال کی ’تمام‘ لوک سبھا نشستیں جیتے گی
بنگال کے وزیرِ اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری کا عزم، 2029 میں بی جے پی مغربی بنگال کی ’تمام‘ لوک سبھا نشستیں جیتے گی — October 08, 2026
بنگال کے وزیرِ اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری کا عزم، 2029 میں بی جے پی مغربی بنگال کی ’تمام‘ لوک سبھا نشستیں جیتے گی
وزیرِ اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری نے بدھ کے روز کہا کہ نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی 2029 کے لوک سبھا انتخابات میں مغربی بنگال کی ”تمام“ پارلیمانی نشستیں جیتنے کو یقینی بنائے گی۔
گجرات کے وڈ نگر میں ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے شوبھیندو نے کہا، ”مجھے ان کی جائے پیدائش پر آنے کا موقع ملنے پر شکر گزار ہوں۔ اگر مودی جی نہ ہوتے تو بنگال کو جس حالت تک پہنچا دیا گیا تھا، اس سے نکالنا مشکل ہوتا۔ آج میں آپ سے عہد کرتا ہوں کہ اگلے لوک سبھا انتخابات میں مودی جی کی قیادت میں ہم یہ یقینی بنانے کے لیے کام کریں گے کہ بنگال کی تمام نشستیں مودی جی کو دی جائیں۔“ وڈ نگر وزیر اعظم نریندر مودی کی جائے پیدائش ہے۔یہ پروگرام مودی کی عوامی زندگی کے 25 سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقد کیا گیا تھا۔یہ تقریب بی جے پی کی ملک گیر ’سیوا سنکلپ ابھیان‘ کے تحت منعقد ہونے والی ”وارانسی سے وڈ نگر سیوا یاترا“ کا اختتامی پروگرام تھا۔ یہ یاترا 17 ستمبر کو مودی کی سالگرہ کے موقع پر شروع ہوئی تھی۔
فی الحال مغربی بنگال میں لوک سبھا کی 42 نشستیں ہیں۔ شوبھیندو نے تعداد کا ذکر نہیں کیا، بلکہ حکمتِ عملی کے تحت ”تمام“ نشستوں کی اصطلاح استعمال کی۔ بی جے پی کے ایک سینئر رہنما نے کہا کہ اگر حد بندی بل منظور ہو جاتا ہے تو بنگال میں نشستوں کی تعداد میں کم از کم 20 کا اضافہ ہو جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ 2029 کے انتخابات میں بنگال کی تمام نشستیں بی جے پی کے حق میں یقینی بنانے سے متعلق شوبھیندو کا دعویٰ اس لیے اہمیت رکھتا ہے کیونکہ 2026 میں بی جے پی نے اسمبلی کی 207 نشستیں جیتی تھیں۔
منگل کے روز نندی گرام اور ریزینگر میں ضمنی انتخابات ہوئے اور بی جے پی کو دونوں نشستوں پر بھاری اکثریت سے کامیابی کا پورا اعتماد ہے۔ بی جے پی کے متعدد ذرائع نے کہا کہ اگر پارٹی مرشدآباد کی ریزینگر نشست جیت جاتی ہے، جہاں تقریباً 70 فیصد آبادی اقلیتوں پر مشتمل ہے، تو اس کا مطلب ہوگا کہ بنگال کی اقلیتیں پارٹی کے ساتھ ہیں۔
اپوزیشن نے الزام لگایا ہے کہ بی جے پی نے اس کے ووٹروں کو پولنگ مراکز تک پہنچنے اور ووٹ ڈالنے سے روکا۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ حکمراں انتظامیہ نے دونوں اسمبلی حلقوں میں مختلف مقامات پر، خاص طور پر ریزینگر کے اقلیتی اکثریتی پولنگ مراکز پر، ووٹوں میں دھاندلی کے لیے پولیس اور انتظامیہ کی مشینری کا استعمال کیا۔نندی گرام اور ریزینگر کے کئی ووٹروں، جن میں متعدد مسلمان بھی شامل تھے، نے منگل کو شکایت کی کہ ان کی انگلی پر سیاہی تو لگائی گئی، لیکن انہیں ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی گئی۔تاہم بی جے پی نے ان الزامات کو مسترد کر دیا۔بدھ کے روز شوبھیندو کا بیان اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ ان کی پارٹی اور ان کی حکومت نے تقریباً تین سال دور ہونے والے لوک سبھا انتخابات پر ابھی سے توجہ مرکوز کر دی ہے۔2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نے مغربی بنگال میں صرف 12 لوک سبھا نشستیں جیتی تھیں، جو 2019 کے مقابلے میں چھ نشستیں کم تھیں۔تاہم بی جے پی رہنماو¿ں نے کہا کہ بنگال میں 2024 اور 2029 کے لوک سبھا انتخابات کا موازنہ کرنا مناسب نہیں ہوگا، کیونکہ ریاست میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سیاسی صورتحال اور انتخابی رفتار بالکل مختلف ہوگی۔
اپوزیشن جماعتوں کے رہنماو¿ں نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں گیانیش کمار کے موجودہ کردار کو دیکھتے ہوئے شوبھیندو کا یہ دعویٰ بہت بڑا دعویٰ ہے۔ان کا ماننا ہے کہ 2029 کا انتخاب بی جے پی کے لیے آسان نہیں ہوگا، کیونکہ ان کے الزام کے مطابق الیکشن کمیشن میں گیانیش کمار کا نظام بی جے پی کو فائدہ پہنچا رہا ہے، لیکن ملک بھر میں جاری بڑے پیمانے کے احتجاج کے درمیان یہ نظام 2029 تک برقرار نہیں رہے گا۔ممتا ترنمول کے بیلی گھاٹا سے رکن اسمبلی اور ریاستی جنرل سکریٹری کنال گھوش نے کہا، ”بی جے پی گیانیش کمار اور ان کی ٹیم کی مدد سے انتخابات پر قبضہ کرنے اور دھاندلی کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اسی لیے وزیر اعلیٰ یہ دعویٰ کرنے کے قابل ہو رہے ہیں کہ وہ بنگال کی تمام نشستیں جیتیں گے۔ تاہم ایسا ہونے والا نہیں ہے۔“گھوش نے مزید کہا، ”2029 میں بی جے پی یقینی طور پر اقتدار سے باہر ہو جائے گی اور ہماری ریاست میں نشستوں کی تعداد ایک بار پھر 12 سے کم ہو جائے گی۔“
سی پی ایم کی مرکزی کمیٹی کے رکن سوجن چکرورتی نے کہا، ”6 اکتوبر کو نندی گرام اور ریزینگر میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں ہم نے ترنمول کے ڈائمنڈ ہاربر یا ’بھیپو‘ ماڈل کو دیکھا“۔ یہاں ’بھیپو‘ سے مراد ترنمول کے ڈائمنڈ ہاربر کے رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی پر لگائے جانے والے ان الزامات کی جانب اشارہ ہے جن میں ان پر بھاری فرق سے کامیابی حاصل کرنے کے لیے مبینہ طور پر غیر شفاف انتخابی طریقے اپنانے کا الزام لگایا جاتا ہے۔چکرورتی نے اشارہ دیا کہ بی جے پی نے منصفانہ طریقے سے انتخاب نہیں لڑا۔ انہوں نے مزید کہا، ”لیکن انہیں (شوبھیندو کو) یاد رکھنا چاہیے کہ ملک کے عوام 2029 میں نریندر مودی کو ایک اور موقع دینے والے نہیں ہیں۔“اپنی 12 منٹ کی تقریر کے دوران شوبھیندو نے بار بار مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی تعریف کی اور اس موسم گرما میں انتخابی مہم کے دوران بنگال میں پہلی بار بی جے پی حکومت قائم کرنے کے لیے ان کی کوششوں کو سراہا۔گجرات میں وزیر اعلیٰ نے کہا، ”مودی جی نے اس بار انتخابی مہم کی قیادت کی۔ امت شاہ جی نے سنکلپ پتر جاری کیا اور کہا کہ اگر بنگال میں بی جے پی اقتدار میں آتی ہے تو حکومت 45 دن کے اندر بی ایس ایف کو زمین فراہم کرنے کا عمل مکمل کرے گی۔ نریندر مودی نے خود مغربی بنگال کی ترقی کی ضمانت دی۔“

بنگال کے وزیرِ اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری کا عزم، 2029 میں بی جے پی مغربی بنگال کی ’تمام‘ لوک سبھا نشستیں جیتے گی...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn