Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

ووٹ چوری، حکومت چوری کے بعد اب پارٹی چوری‘! انتخابی نشان کھونے والی ممتا کے ساتھ راہل

Admin
By Admin
Sep 18, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

KOLKATA METRO STATION PAR MAHILA PASSENGER AUTHORITIES NE LAGAYA JURMANA

ووٹ چوری، حکومت چوری کے بعد اب پارٹی چوری‘! انتخابی نشان کھونے والی ممتا کے ساتھ راہل
ووٹ چوری، حکومت چوری کے بعد اب پارٹی چوری‘! انتخابی نشان کھونے والی ممتا کے ساتھ راہل — September 18, 2026
ووٹ چوری، حکومت چوری کے بعد اب پارٹی چوری‘! انتخابی نشان کھونے والی ممتا کے ساتھ راہل
الیکشن کمیشن کی عبوری ہدایت کے باعث ممتا بنرجی کے ہاتھ سے ’جوڑا پھول‘ انتخابی نشان چلا گیا ہے۔ اس صورتحال میں کانگریس، سماج وادی پارٹی (ایس پی) سمیت ملک کی اپوزیشن جماعتوں نے ممتا کا ساتھ دیتے ہوئے الیکشن کمیشن اور ملک کی حکمراں جماعت بی جے پی کو نشانہ بنایا ہے۔ اسی طرح کمیشن اور بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے راہل گاندھی بھی ممتا کے ساتھ کھڑے ہوگئے ہیں۔
جمعہ کی صبح سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کرتے ہوئے انہوں نے کمیشن اور بی جے پی پر پارٹی میں پھوٹ ڈالنے کا الزام لگایا۔ اسی سلسلے میں انہوں نے مہاراشٹر میں شیوسینا اور این سی پی میں ہوئی تقسیم کا ذکر کیا۔ انہوں نے لکھا، ”پہلے شیوسینا، پھر این سی پی، اب ترنمول کانگریس۔ ہر بار بی جے پی اور الیکشن کمیشن مل کر ایک ہی طریقے سے کسی پارٹی کو ٹکڑوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ اس کے بعد ان کا انتخابی نشان چھین لیتے ہیں۔“
اسی کے ساتھ راہل نے طنزیہ انداز میں لکھا، ”ووٹ چوری، حکومت چوری کے بعد پارٹی چوری۔ یہی ہماری جمہوریت کے زوال کی علامت بن چکا ہے۔ جب پوری کی پوری پارٹی ہی ہتھیائی جا سکتی ہے، تو کروڑوں ہندوستانیوں کے ووٹ بھی چوری ہو سکتے ہیں، اس پر حیرت کی کیا بات ہے!“ کمیشن کو اس کی آئینی ذمہ داری یاد دلاتے ہوئے کانگریس رہنما نے مزید کہا، ”عوام کے فیصلے کا احترام کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ لیکن حقیقت میں وہ ان طاقتوں کی مدد کر رہے ہیں جو عوام کے فیصلے کو ہی مسترد کر دیتی ہیں۔“
اپنی پوسٹ کے آخر میں ترنمول لیڈر کے ساتھ کھڑے ہوتے ہوئے راہل نے لکھا، ”یہ لڑائی صرف ممتا بنرجی کی نہیں ہے۔ یہ ہر سیاسی جماعت اور ہر ایسے ووٹر کی لڑائی ہے جو آزادانہ اور منصفانہ انتخابات چاہتے ہیں۔“
جمعرات کی رات الیکشن کمیشن نے عبوری ہدایت جاری کرتے ہوئے اعلان کیا کہ فی الحال ممتا کے کالی گھاٹ اور ریتبرت، دونوں دھڑے ’جورا پھول‘ انتخابی نشان استعمال نہیں کر سکیں گے۔ ’آل انڈیا ترنمول کانگریس‘ نام بھی استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔ کمیشن نے بتایا کہ ترنمول کا ’جورا پھول‘ نشان فی الحال اس کے پاس محفوظ رکھا جا رہا ہے۔ پارٹی کس کی ہے، اصل ترنمول کون ہے، پارٹی کے فنڈز کی ملکیت کس گروپ کی ہے— ان معاملات پر حتمی فیصلہ ہونے کے بعد ہی اس محفوظ نشان کا تالا کھولا جائے گا۔
آئندہ 6 اکتوبر کو ریاست کے دو حلقوں نندی گرام اور ریجینگر میں اسمبلی کے ضمنی انتخابات ہونے ہیں۔ تمام فریق اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر چکے ہیں۔ لیکن ترنمول کے دونوں دھڑوں کو ابھی تک معلوم نہیں کہ وہ کس انتخابی نشان پر الیکشن لڑیں گے۔ کمیشن نے جمعرات کو بتایا کہ فی الحال کسی بھی دھڑے کو اصل ترنمول کے طور پر تسلیم نہیں کیا جا رہا ہے۔ دونوں دھڑوں کو اپنے لیے الگ الگ نام منتخب کرنا ہوں گے۔ اگر چاہیں تو ان ناموں کے ساتھ ’آل انڈیا ترنمول کانگریس‘ سے تعلق کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔ ضمنی انتخابات کے لیے دونوں فریقوں کو کمیشن کے محفوظ انتخابی نشانوں کی فہرست سے الگ الگ نشان منتخب کرنا ہوگا۔
کمیشن نے بتایا کہ ترنمول کے انتخابی نشان یا پارٹی کے کنٹرول سے متعلق یہ حتمی فیصلہ نہیں ہے۔ مختلف پہلوو¿ں پر غور کرنے کے بعد حتمی فیصلہ بعد میں سنایا جائے گا۔ ترنمول نے 1998 میں اپنا سیاسی سفر شروع کیا تھا۔ اب 2026 ہے۔ یعنی طویل 28 سال بعد مغربی بنگال میں ایسا انتخاب ہوگا جس میں ’جورا پھول‘ انتخابی نشان موجود نہیں ہوگا!
کمیشن کی ہدایت منظر عام پر آنے کے بعد جمعرات کی رات ہی کانگریس کے جنرل سکریٹری (تنظیم) کے سی وینوگوپال نے ممتا کے ساتھ کھڑے ہوتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک طویل پوسٹ کی تھی۔ بی جے پی اور کمیشن پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے لکھا، ”آل انڈیا ترنمول کانگریس کا نام اور انتخابی نشان فریز کرنا دراصل چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی جانب سے مودی جی (وزیر اعظم نریندر مودی) کو دیا گیا سالگرہ کا تحفہ ہے۔“ اسی کے ساتھ انہوں نے لکھا، ”الیکشن کمیشن نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ یہ بی جے پی کے ہاتھ کی کٹھ پتلی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔“ وینوگوپال کے ہی لہجے میں عام آدمی پارٹی (آپ) کے سربراہ اور دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے بھی ممتا کا ساتھ دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا، ”سالگرہ پر ملک کے عوام کے لیے مودی جی کا تحفہ۔ کیا وہ اس طرح انتخابات جیتیں گے؟“ ایس پی کے سربراہ اکھلیش یادو نے بھی کمیشن کے خلاف آواز اٹھائی۔

ووٹ چوری، حکومت چوری کے بعد اب پارٹی چوری‘! انتخابی نشان کھونے والی ممتا کے ساتھ راہل...

Source: Admin

Related Articles

مزید دیکھیں
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn