بکسا جنگل کے دیہاتیوں کی سیاحتی مطالبات پر 26 اکتوبر سے احتجاج تیز کرنے کی دھمکی
مغربی بنگال کے علی پور دوار ضلع میں بوکسہ ٹائیگر ریزرو کے مرکزی داخلی راستے، راج بھٹ کھاوا چیک پوسٹ کے قریب جنگلاتی علاقوں کے دیہاتیوں کا احتجاج جمعرات کو 17ویں دن میں داخل ہو گیا۔ مظاہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر 25 اکتوبر تک ان کے مطالبات پورے نہیں کیے گئے تو 26 اکتوبر سے احتجاجی تحریک کو مزید تیز کیا جائے گا۔
مظاہرین نے کہا کہ وہ 25 اکتوبر تک اپنا احتجاج جاری رکھیں گے اور اگر کوئی کارروائی نہیں ہوئی تو 26 اکتوبر سے تحریک میں شدت پیدا کریں گے۔ ان کے اہم مطالبات میں راج بھٹ کھاوا سے محکمہ جنگلات کی چیک پوسٹ ہٹانا، جینتی میں ہوم اسٹے کے اندر سیاحوں کو رات گزارنے کی اجازت دینا اور جینتی سے کار سفاری دوبارہ شروع کرنا شامل ہے۔
گزشتہ چند دنوں میں سفاری گاڑیوں کے ڈرائیوروں اور سیاحتی گائیڈوں نے بھی اس احتجاج میں حصہ لینا شروع کر دیا ہے۔
محکمہ جنگلات کے ذرائع کے مطابق، گزشتہ منگل سے راج بھٹ کھاوا میں کار سفاری دوبارہ شروع کر دی گئی ہے۔ فی الحال سیاحوں کے لیے پانچ گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں۔
تاہم، جینتی سے سفاری خدمات میں پہلے مصروف رہنے والی دیگر 14 گاڑیوں کے ڈرائیور اب بھی احتجاج میں شامل ہیں۔
مظاہرین کی توجہ بنیادی طور پر جینتی پر مرکوز ہے، جو بوکسہ ٹائیگر ریزرو (BTR) کے بنیادی محفوظ علاقے میں واقع ہے۔ تاہم، ٹائیگر ریزرو کے بنیادی علاقوں میں سیاحتی سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہے۔
2 اکتوبر کو مرکزی وزیر ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی بھوپیندر یادو نے علی پور دوار کے دورے کے دوران واضح کیا تھا کہ ریزرو میں ایک شیرنی کو دوبارہ آباد کیے جانے کے بعد بوکسہ ٹائیگر ریزرو کے بنیادی علاقے میں سیاحتی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے محکمہ جنگلات کے افسران سے یہ بھی کہا تھا کہ ریزرو کے بفر زون میں ایک وسیع علاقے کی نشاندہی کی جائے، جہاں بین الاقوامی معیار کی ایکو ٹورزم سہولیات تیار کی جا سکیں۔
جاری احتجاج کے پیش نظر، ایسوسی ایشن فار کنزرویشن آف ٹورزم کے کنوینر راج باسو نے ریاستی وزیر جنگلات منوج اوراو¿ں اور وزیر مملکت برائے داخلہ وشال لاما کو خط لکھا ہے۔ انہوں نے خط میں مقامی برادریوں کی شراکت داری پر مبنی تحفظِ جنگلات کی اہمیت پر زور دیا۔
راج باسو نے اپنے خط میں کہا کہ دوآرس کے پورے علاقے میں جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ کی کہانی کا مقامی برادریوں کی شراکت داری پر مبنی تحفظ اور سیاحت سے گہرا تعلق رہا ہے۔
بکسا جنگل کے دیہاتیوں کی سیاحتی مطالبات پر 26 اکتوبر سے احتجاج تیز کرنے کی دھمکی...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments