International

ہنگری کے نئے وزیر اعظم بھی اچھا کریں گے ، ٹرمپ

ہنگری کے نئے وزیر اعظم بھی اچھا کریں گے ، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہنگری میں اپنے اور اسرائیل کے پرانے کٹر حامی وکٹر اربان کی الیکشن میں شکست کے بعد نئے منتخب ہونے والے وزیراعظم پیٹر میئر کے بارے میں اچھی امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیا آنے والا وزیر اعظم اچھا کام کرے گا۔ ٹرمپ نے ان خیالات کا اظہار 'اے بی سی' نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا ہے۔ ہنگری کے سخت گیر وزیر اعظم اربان امریکی صدر کے حمایت یافتہ تھے۔ تاہم انہوں نے اس کے ساتھ ہی ساتھ ماسکو سے بھی اپنے تعلقات کو بہتر رکھا ہوا تھا۔ 16 سال کی سخت گیری پر مبنی حکومت کے بعد اتوار کے روز ہونے والے انتخابات میں عوام نے انہیں رخصت کر دیا ہے۔ اب ان کی جگہ پیٹر میئر ہنگری کے رہنما کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ اربان اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور ان کی جنگی پالیسیوں کے بھی پکے حامی تھے۔ یورپی یونین میں ان کا شمار ان چند رہنماؤں میں ہوتا ہے جو اسرائیل کی ہر قیمت پر ہر صورت میں حمایت کے لیے آگے بڑھ کر کردار ادا کرتے تھے۔ ان کی الیکشن مہم میں حمایت کے کھلے اظہار کے لیے صدر ٹرمپ نے اپنے نائب جے ڈی وینس کو بھی ہنگری بھیجا تھا۔ یہ ساری کوششیں عوامی ووٹ کا مقابلہ نہیں کر سکیں۔ اگرچہ جے ڈی وینس نے 62 سالہ اربان کو یورپ کے لیے ایک ماڈل قرار دیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے کہا میں سمجھتا ہوں کہ نیا آدمی بھی صحیح کام کرے گا۔ 'اے بی سی' کے نمائندے جوناتھن کارل نے صدر ٹرمپ کے ان خیالات کو 'ایکس' پر پوسٹ کیا ہے۔ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ نیا منتخب لیڈر بھی اسی پارٹی سے تعلق رکھنے والا رہا ہے جس سے وکٹر اربان کا تعلق تھا۔ اس لیے انہیں یقین ہے کہ نئے لیڈر کے خیالات میں بھی اربان سے فرق نہیں ہوگا اور وہ امیگریشن کے بارے میں وہی خیالات رکھیں گے جو وکٹر اربان کے تھے۔ صدر ٹرمپ نے اس سوال پر کہ اگر وہ جے ڈی وینس کی جگہ خود ہنگری جا کر وکٹر اربان کی حمایت کرتے تو کیا اس سے نتائج مختلف ہو سکتے تھے۔ ٹرمپ نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ کیا نتیجہ نکلتا۔ لیکن جے ڈی وینس کو اربان کی حمایت کے لیے بھیجنے کے پیچھے میں ہی تھا۔ میں اس معاملے میں شامل تھا کیونکہ وکٹر ایک اچھا آدمی ہے۔ امریکی نائب صدر نے پیر کے روز ہنگری کے انتخابی نتائج کے بعد کہا انہیں یہ نتائج سن کر دکھ ہوا ہے کہ اربان شکست کھا گئے ہیں۔ لیکن ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم ہنگری کے نئے لیڈر پیٹر میئر کے ساتھ بھی مل کر کام کریں گے۔ ہنگری میں اربان کی شکست سے لگ رہا ہے کہ عالمی سطح پر سخت گیر قوم پرستانہ سوچ اور رہنماؤں کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے۔ کیونکہ وکٹر اربان کو یورپ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تحریک ٹرمپ ازم کا حامی سمجھا جاتا تھا اور ایک طرح سے وہ صدر ٹرمپ کے خیالات ہی کی پراکسی تھے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments