Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

کولکاتا میونسپل انتخابات میں امیدوار تلاش کرنے میں ممتا ترنمول کو سخت دشواری

Admin
By Admin
Oct 12, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

KOLKATA METRO STATION PAR MAHILA PASSENGER AUTHORITIES NE LAGAYA JURMANA

کولکاتا میونسپل انتخابات میں امیدوار تلاش کرنے میں ممتا ترنمول کو سخت دشواری
کولکاتا میونسپل انتخابات میں امیدوار تلاش کرنے میں ممتا ترنمول کو سخت دشواری — October 12, 2026
کولکاتا میونسپل انتخابات میں امیدوار تلاش کرنے میں ممتا ترنمول کو سخت دشواری
ایک وقت تھا جب کولکاتا میونسپل انتخابات میں امیدوار بننے کے لیے ترنمول بھون میں لوگوں کی قطاریں لگ جاتی تھیں۔ ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے رہنماو¿ں سے سفارش کروائی جاتی تھی اور ممتا بنرجی تک پیغام پہنچانے کی کوشش کی جاتی تھی۔ پارٹی دفتر میں بائیو ڈیٹا کے انبار جمع ہو جاتے تھے۔ لیکن اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد صورتِ حال بدل گئی ہے۔ کولکاتا شہر میں ترنمول کا نام و نشان واقعی دکھائی نہیں دیتا۔ یہاں تک کہ پارٹی سربراہ ممتا بنرجی کی تصویر بھی نظر نہیں آتی۔ مسلسل حملوں اور گرفتاریوں کے باعث ترنمول کارکن شہر کی سیاسی سرگرمیوں سے کافی دور ہو گئے ہیں۔ کئی علاقوں میں پارٹی دفاتر بند ہیں اور کارکن بھی علاقے چھوڑ چکے ہیں۔ حالات کو بگڑتا دیکھ کر بہت سے لوگوں نے خود کو سرگرمیوں سے الگ کر لیا ہے۔ اس دوران پارٹی میں پھوٹ پڑنے کے باعث کئی افراد باغی خیمے میں شامل ہو گئے ہیں۔ ایسے مشکل حالات میں ممتا بنرجی کا خیمہ اس بات کو لے کر شدید فکر مند ہے کہ میونسپل انتخابات میں مقابلہ کیسے کیا جائے گا۔
کولکاتا میں وارڈوں کی تعداد 144 سے بڑھ کر 209 ہو گئی ہے۔ انتخابی شکست کے بعد استعفیٰ دے کر سو سے زیادہ کونسلر یا تو گھروں میں بیٹھ گئے ہیں یا دوسرے خیموں میں شامل ہو گئے ہیں۔ اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ ممتا بنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس کو اس بار 209 میں سے تقریباً 90 فیصد نشستوں پر نئے امیدوار کھڑے کرنے پڑ سکتے ہیں۔ فی الحال موصولہ اطلاعات کے مطابق، درگا پوجا کے بعد کولکاتا میونسپل کارپوریشن کے انتخابات ہوں گے۔ کولکاتا پر قبضہ کرنے کے لیے بی جے پی نے ہر طرح کی تیاری کر لی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ وارڈوں کی حد بندی بھی اس کی مرضی کے مطابق ہوئی ہے۔ امیدواروں کی فہرست تیار کرنے کا کام مرلی دھر لین میں جاری ہے۔ دوسری جانب کالی گھاٹ کے ترنمول خیمے کی صورتِ حال بالکل مختلف ہے۔ ضمنی انتخابات کے تجربے نے ترنمول قیادت کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ نندی گرام میں امیدوار کھڑا کرنے کے بعد بھی نام واپس لے لیا گیا، جو خاصی اہمیت رکھتا ہے۔ دوسری جانب ریجینگر میں بھی امیدوار محض رسمی طور پر کھڑے ہوئے تھے اور انہوں نے مو¿ثر انداز میں انتخابی مہم نہیں چلائی۔ ترنمول قیادت کا الزام ہے کہ حکمراں بی جے پی نے خوف زدہ کرکے ان کے امیدواروں سے نام واپس کروائے اور نئے کارکنوں کو انتخابی مہم میں حصہ لینے سے روکا۔ ممتا بنرجی کا خیمہ اس بات کو لے کر بھی شکوک و شبہات میں مبتلا ہے کہ میونسپل انتخابات میں جو لوگ امیدوار بنیں گے، وہ کتنی دیر تک مقابلے میں قائم رہ سکیں گے۔ اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی ہے کہ ہمت کرکے کتنے لوگ امیدوار بننے کے لیے آگے آئیں گے۔
اگرچہ کالی گھاٹ میں ترنمول کے ذرائع کے مطابق، اب تک جن وارڈوں میں تنظیمی سرگرمیاں جاری ہیں، وہاں امیدواروں کے انتخاب کا کام شروع ہو چکا ہے۔ چھوٹی چھوٹی میٹنگیں کی جا رہی ہیں۔ ترنمول کانگریس اتحاد کے لیے دروازے کھلے رکھنا چاہتی ہے۔ اگر بائیں بازو کی جماعتیں اتحاد چاہیں تو ترنمول اس کے لیے بھی تیار ہے۔ تاہم سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ فی الحال ایسے حالات پیدا ہونا کافی مشکل ہے۔ ایک وقت تھا جب کولکاتا ترنمول کا مضبوط قلعہ ہوا کرتا تھا۔ شہر کے 15 اسمبلی حلقوں اور چار لوک سبھا حلقوں پر مشتمل علاقے میں ترنمول کا غلبہ تھا۔ کولکاتا کے 144 وارڈوں میں سے 134 پر ترنمول کا قبضہ تھا، جبکہ بی جے پی کے پاس صرف تین وارڈ تھے۔ پانچ سال پہلے جہاں ترنمول کو تقریباً 19 لاکھ لوگوں کی حمایت حاصل ہوئی تھی، وہیں بی جے پی کو محض 2 لاکھ 41 ہزار ووٹ ملے تھے۔ لیکن اب صورتِ حال ایسی نہیں رہی۔ گزشتہ انتخابات میں کولکاتا کے چار اسمبلی حلقوں کو چھوڑ کر باقی تمام حلقوں پر بی جے پی نے قبضہ کر لیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان تمام منفی حالات کا سامنا کرتے ہوئے ممتا بنرجی کس طرح انتخابی مقابلہ کرتی ہیں۔

کولکاتا میونسپل انتخابات میں امیدوار تلاش کرنے میں ممتا ترنمول کو سخت دشواری...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn