ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تہران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی درخواست نہیں کی ہے، تاہم اس نے ایک علاقائی ثالث کی جانب سے ایران کا دورہ کرنے اور تازہ ترین پیش رفت پر بات چیت کرنے کی درخواست کو قبول کیا ہے۔ اسماعیل بقائی نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ ’ہماری جانب سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی درخواست نہیں کی گئی تھی، لیکن اپنے روایتی ذمہ دارانہ رویے کے پیشِ نظر ہم نے ایک علاقائی ثالث کی جانب سے ایران کا دورہ کرنے اور تازہ ترین صورتحال پر بات چیت کرنے کی درخواست کو مسترد نہیں کیا۔ یہ دورہ مشہد میں ہوا اور ہم نے قطری فریق کے سامنے اپنے خیالات اور موقف کا اظہار کیا۔‘ اسماعیل بقائی نے الزام عائد کیا کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے ابھی صرف 21 یا 22 دن ہی گزرے ہیں اور امریکہ نے اس عرصے کے دوران مسلسل اس کی مختلف شقوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ بدھ اور جمعرات کے واقعات اس یادداشت کی پہلی اور دوسری شقوں کی واضح خلاف ورزی تھے، اور ایرانی تیل کی فروخت کے لائسنس کی منسوخی نے بھی اس کی ایک اور شق کی سنگین خلاف ورزی کی۔ ان کے مطابق، امریکہ کی جانب سے نئی پابندیاں عائد کرنا اس مفاہمت کی یادداشت کی شق نمبر نو کے منافی ہے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
امریکی حملے کے بعد ایران کے جزیرے خارگ سے بدستور ٹینکرز پر تیل لوڈ کیا جا رہا ہے، رپورٹ
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع