Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

نام فہرست سے خارج ہونے والوں کے گھر گھر جانے پر حملے کا خدشہ، بی ایل اوخوفزدہ

Admin
By Admin
Oct 05, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

BIHAR KE VAISHALI MEIN UNDER CONSTRUCTION BRIDGE KA HISSA GIRA, KAI MAZDOOR ZAKHMI

نام فہرست سے خارج ہونے والوں کے گھر گھر جانے پر حملے کا خدشہ، بی ایل اوخوفزدہ
نام فہرست سے خارج ہونے والوں کے گھر گھر جانے پر حملے کا خدشہ، بی ایل اوخوفزدہ — October 05, 2026
نام فہرست سے خارج ہونے والوں کے گھر گھر جانے پر حملے کا خدشہ، بی ایل اوخوفزدہ
الیکشن کمیشن کی ہدایت کے مطابق بوتھ لیول افسران (بی ایل او) کو گھر گھر جا کر ووٹر فہرست سے خارج کیے گئے اہل ووٹروں کے نام دوبارہ درج کرنے اور نئے اہل ووٹروں کے نام شامل کرنے کا عمل شروع کرنا ہوگا۔ اس ہدایت کے بعد بی ایل اوز کا ایک طبقہ تشویش میں مبتلا ہے۔ الزام ہے کہ ووٹر فہرست سے جن لوگوں کے نام خارج ہوئے ہیں، ان کا غصہ بی ایل اوز پر نکل سکتا ہے۔ خاص طور پر ریاست کے آٹھ اضلاع کے حساس علاقوں میں یہ خدشہ زیادہ ہے۔ اسی وجہ سے بی ایل اوز کی تنظیم نے ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) نیلم مینا کو خط لکھ کر سکیورٹی کا مطالبہ کیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے بوتھ لیول افسران (بی ایل او) کو پرانی اور نئی ووٹر فہرستوں کا موازنہ کرکے خارج کیے گئے اہل ووٹروں کی شناخت کرنے اور ان کے نام دوبارہ درج کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس کے بعد ریاست کے سی ای او نیلم مینا کو ’ووٹ ورکرز اینڈ بی ایل او ایکتا منچ‘ کی جانب سے خط بھیجا گیا ہے۔ تنظیم کو خدشہ ہے کہ اگر ہر بی ایل او کے ساتھ مسلح سکیورٹی اہلکار موجود نہ ہو تو ان پر حملہ ہو سکتا ہے۔
ووٹ ورکرز اینڈ بی ایل او ایکتا منچ کے سیکریٹری سواپن منڈل نے خط میں آٹھ اضلاع کا ذکر کیا ہے۔ ان میں شمالی و جنوبی 24 پرگنہ، ہاوڑہ، ہگلی کے کچھ حصے، مالدہ، مرشدآباد، شمالی دیناج پور اور کولکاتا کے کچھ علاقے شامل ہیں، جہاں بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام فہرست سے خارج ہوئے ہیں۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ نام خارج کیے جانے کے پیچھے بی ایل اوز کا کوئی کردار نہیں ہے۔ اس کے باوجود ماضی میں انہیں ہی ذمہ دار ٹھہرا کر ہراساں کیا گیا ہے۔ تنظیم کو خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں بھی ایسی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے بی ایل اوز کا ایک طبقہ خوف زدہ ہے۔
سواپن نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق ووٹر فہرست سے خارج کیے گئے افراد کے لیے خصوصی اقدامات کرنے ہوں گے اور اہل افراد کے نام دوبارہ ووٹر لسٹ میں شامل کرنے ہوں گے۔ اس سلسلے میں تربیت بھی شروع ہو چکی ہے۔
ان کا دعویٰ ہے، ”ایس آئی آر کے دوران ہم نے بار بار کمیشن سے کہا تھا کہ ’لاجیکل ڈسکریپینسی‘ (معلوماتی عدم مطابقت) کے نام پر 27 لاکھ ووٹروں کے نام خارج کیے گئے ہیں۔ ان میں کم از کم 18 سے 19 لاکھ ووٹر اہل ہیں۔“
سواپن نے بتایا کہ ریاست کی اس وقت کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی قانونی کارروائی کی وجہ سے معاملہ ٹریبونل تک پہنچا، جس کے نتیجے میں پیچیدگیاں مزید بڑھ گئیں۔ عام لوگ ان تمام وجوہات کی وجہ سے ناراض ہیں۔ بہت سے لوگ جمہوری عمل میں حصہ نہیں لے سکے۔ اسی لیے انہیں خدشہ ہے کہ آٹھ اضلاع کے کچھ حساس علاقوں میں بی ایل اوز کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ان کے بقول، ”ہم خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ ہم نے ریاست کے معزز چیف الیکٹورل آفیسر کو خط لکھ کر بی ایل اوز کی سکیورٹی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ہم نے مطالبہ کیا ہے کہ ہر بی ایل او کے ساتھ سکیورٹی اہلکار یا ضرورت کے مطابق فورس فراہم کی جائے۔“

نام فہرست سے خارج ہونے والوں کے گھر گھر جانے پر حملے کا خدشہ، بی ایل اوخوفزدہ...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn