ملن پردھان کی ضمانت منسوخ کرنے کی درخواست سپریم کورٹ نے مسترد کی، نندی گرام ضمنی انتخاب میں منگل کو ووٹنگ
نندی گرام کے کانگریس امیدوار ملن پردھان کی عبوری ضمانت کے معاملے میں سپریم کورٹ نے فی الحال مداخلت نہیں کی۔ عدالت نے کہا کہ ملن کو الیکشن لڑنے دیا جائے۔ انتخابات پرامن اور منصفانہ طریقے سے مکمل کرائے جائیں۔
آج، 5 اکتوبر کو جسٹس جے مالیا باگچی نے ذاتی مفادات کے ٹکراو¿ کا حوالہ دیتے ہوئے خود کو اس معاملے سے الگ کر لیا۔ اس کے نتیجے میں مقدمہ 7 اکتوبر، بدھ کو دوبارہ فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ یعنی بدھ کو اس معاملے کی دوبارہ سماعت ہوگی۔ اس وقت چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بینچ اس کیس کی سماعت کرے گی۔ اس سے پہلے منگل کو نندی گرام میں ضمنی انتخاب کے لیے ووٹنگ ہوگی۔ اس دوران ملن اپنے انتخابی حلقے میں موجود رہ سکیں گے۔
پولیس نے 2007 کے ایک پرانے قتل کے مقدمے میں ملن کو گرفتار کیا تھا۔ کلکتہ ہائی کورٹ نے انہیں تین ہفتوں کے لیے عبوری ضمانت دی تھی۔ عدالت نے کہا تھا کہ انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد ملن کو ہلدیہ عدالت میں پیش ہو کر خودسپردگی کرنی ہوگی۔
تاہم ریاست نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ مغربی بنگال حکومت کا موقف تھا کہ اگر کوئی شخص الیکشن لڑ رہا ہے تو اسے اضافی سہولت کیوں دی جائے؟ اسے عام شہری کی طرح ہی سمجھا جانا چاہیے اور دوسروں کے ساتھ جو طریقہ اختیار کیا جاتا ہے، وہی ملن کے معاملے میں بھی ہونا چاہیے۔
ضمنی انتخاب سے ایک دن قبل سپریم کورٹ نے اس معاملے میں ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا۔ چیف جسٹس نے کہا، ”انہیں الیکشن لڑنے دیں۔ ووٹنگ پرامن اور منصفانہ طریقے سے مکمل ہونی چاہیے۔“
واضح رہے کہ ملن کی عبوری ضمانت منسوخ کرنے کی درخواست پر گزشتہ بدھ کو ریاست نے سپریم کورٹ میں فوری سماعت کی درخواست کی تھی۔ ریاست کے وکیل چاہتے تھے کہ جمعرات کو ہی معاملے کی سماعت کی جائے۔ لیکن سپریم کورٹ نے بتایا کہ فوری سماعت ممکن نہیں ہے اور مقدمے کی سماعت پیر کو ہوگی۔
ملن کی گرفتاری پر کانگریس نے سیاسی انتقام کا الزام عائد کیا ہے۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ یہ مقدمہ کافی عرصے سے زیرِ التوا تھا، لیکن اب تک ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔ کانگریس کی جانب سے انہیں امیدوار بنائے جانے کے فوراً بعد پولیس نے کارروائی کی۔ پارٹی کا الزام ہے کہ اس کے پیچھے سیاسی مقصد ہے۔
حکومت نے اس الزام کو مسترد کیا ہے۔ پیر کو سپریم کورٹ میں ریاست کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بتایا کہ ملن کے خلاف جن ناقابلِ ضمانت دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے، حکومت کو اس کا علم اس وقت ہوا جب انہوں نے امیدوار کی حیثیت سے نامزدگی داخل کی۔ حکومت کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ مقدمہ اتنے عرصے سے کس مرحلے میں تھا۔ ریاست یہ بھی واضح نہیں کر سکی کہ اتنے عرصے تک پولیس نے کارروائی کیوں نہیں کی۔ اس معاملے میں سابق حکومت کی مبینہ غیرفعالیت پر بھی سوال اٹھایا گیا۔
ریاست کے اس موقف کے تناظر میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ اگر اتنے عرصے تک وارنٹ پر عمل نہیں ہوا تو متعلقہ پولیس افسران کے خلاف بھی کارروائی کی جانی چاہیے۔ ریاست کے وکیل نے بھی اس سے اتفاق کیا۔
سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد فی الحال کانگریس نے ملن کے معاملے میں راحت کی سانس لی ہے۔ ریاستی کانگریس صدر شوبھنکر سرکار نے کہا، ”امیدوار بننے کے بعد ان کے خلاف جھوٹے مقدمے میں کارروائی کی گئی۔ نندی گرام کی تاریخی زمین تحریک سے بی جے پی کے کئی رہنما وابستہ رہے ہیں۔ ان میں سے کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ اس کے پیچھے کی بدنیتی سمجھنے کے لیے اب کسی کو کچھ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ جھوٹا مقدمہ بنانے کے باوجود سچ کو دبایا نہیں جا سکتا۔ سپریم کورٹ کے مجموعی مشاہدے سے واضح ہے کہ حکومت خوف زدہ ہے۔ انتخابات غیر جانب دارانہ طریقے سے نہیں ہو رہے۔ گنتی کا مرکز تبدیل کرکے ہلدیہ منتقل کیا جائے۔ ہم یہ مطالبہ کر رہے ہیں۔“
ملن پردھان کی ضمانت منسوخ کرنے کی درخواست سپریم کورٹ نے مسترد کی، نندی گرام ضمنی انتخاب میں منگل کو ووٹنگ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments