مٹیا برج سے ممتا ترنمول کانگریس نے اپنی انتخابی مہم شروع کر دی
کولکاتا میونسپل کارپوریشن کا چناﺅ بہت جلد ہونے جا رہا ہے۔ یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ دسمبر میں چناﺅ ہونے کا امکان ہے۔ اسی کو ٹارگیٹ بنا کر تمام سیاسی پارٹیوں نے چناﺅ کے سلسلے میں اپنی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔اسی سلسلے میں یہاں مٹیا برج کے جیلانی پیلیس میں آل انڈیا ترنمول کانگریس کی ورکرس میٹنگ ہوئی جس میں مغربی بنگال اسمبلی کے سابق اسپیکر بمان بنرجی، ترنمول رہنما وشنو چٹوپادھیائے، بورو کے سابق چیئر مین رنجیت سیل، ببلو کریم، بابی شہزادہ ، پریتم بھائی لالی باجی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔اس پورے پروگرام کی ذمہ دار محمد عمران خان، کلام صاحب ، لالی باجی وغیرہ پر تھی۔ ان لوگوں نے نہ صرف پروگرام کا اہتمام کیا بلکہ پروگرام کو کامیابی سے بھی ہمکنار کرایا۔ریاست کے جو حالات ہیں اسے دیکھتے ہوئے ایسا نہیں لگ رہا تھا کہ یہاں بھیڑ ہوگئی لیکن یہاں نہ صرف بھیڑ ہوئی بلکہ لوگ آخر آخر تک یہاں بیٹھے رہے اور اپنے لیڈروں کی باتیںسنیں۔ اس سے یہ انداہ لگایا جاسکتا ہے کہ لوگ ابھی بھی کتنے ممتا بنرجی کے دیوانے ہیں۔چونکہ لوگوںکو پتہ ہے کہ اسمبلی چناﺅ بی جے پی نے جیتا نہیں ہے بلکہ پولس ، ملٹری، غنڈہ گردی ، ایس آئی آر اور ای وی ایم کی مدد سے ان لوگوں نے چناﺅ لوٹا ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ سابق اسپیکر بمان بنرجی آج بھی ممتا بنرجی کو ہی چیف منسٹر تسلیم کرتے ہیں۔
بہر حال اسمبلی چناﺅ کے بعد بنگال کی سیا سی صورت حال میں بڑی تبدیلی آگئی تھی۔ بی جے پی حکومت نے اقتدار میں آنے کے اپنے طو رپر ممتا ترنمول کانگریس کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ان کے لیڈروں اور ورکروں کو خوفزدہ کر دیا۔اس خوف کی وجہ سے ان لوگوں نے باہر نکلنابند کر دیا۔ اس دوران ترنمول کانگریس سے بغاوت کرکے ایک طرف ریتو برتو کی قیادت میںایم ایل اے نے اور دوسری طرف شتابدی رائے ، کاکلی گھوش دستی دار کی قیادت میںایم پی نے نئی پارٹی بنا لی۔اور دونوں پارٹیوں میں شامل ایم ایل اے اور ایم پی نے بی جے پی سے قریبی اختیار کر لی۔بی جے پی کے ساتھ جانے والے ان ایم پی اور ایم ایل اے نے پارٹی چھوڑنے کےلئے ابھیشیک بنرجی کو اذمہ دار ٹھہرایا جبکہ ترنمول کے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ لوگ گرفتار ی اور بدعنوانی سے بچنے کےلئے بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں۔جس وقت یہ لوگ بی جے پی کے قریب گئے اس وقت ریاست میں ڈر اور خوف کا ماحول تھا ۔ ترنمول لیڈروںکو گرفتار کیا جا رہا تھا ۔ ایسی صورت حال میں خوفزدہ ہوکر اور اقتدار میں رہتے ہوئے جو کچھ کمایا ہے اسے بچانے کے لئے یہ لوگ شوبھندو کے شرن میں چلے گئے۔ممتا بنرجی او ر ان کے لوگوں کو کئی محاذوں پر لڑنا پڑ رہا ہے۔بی جے پی کے علاوہ اپنی ہی پارٹی کے غدار لیڈروں اور کورٹ میں لڑنا پڑرہا ہے۔انکی لڑاءکٹھن ہوگئی ہے۔ انہیں میٹنگ کرنے نہیں دیا جا رہا ہے۔ تر نمول کانگریس کے لیڈروںکو دیکھ کر اورجان بوجھ پر ان پر انڈے چلائے جا رہے ہیں۔انہیں خوفزدہ کیا جا رہا ہے۔ پولس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔جو بھی تھوڑی ہی صحیح کورٹ سے انہیں مد د مل رہی ہے۔
بہر حال اس ورکرس میٹنگ سے ایک طرف جہاں ورکروں کو حوصلہ ملا وہیں دوسری طرف انہیںلیڈروں کو بھی حوصلہ ملا اور ان لوگو ں نے مل کر آگے کی لڑائی لڑنے کا عز م کیا۔یہاں زیادہ تر لیڈروںنے فر ہا د حکیم کو نشانہ بنا یا اور انہیں غدار قرار دیا ۔واضح رہے کہ شوبھندو ادھیکاری کی قیاد ت میں بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد دوسرے لیڈروں کی طرح فرہا د حکیم بھی خوفزدہ ہوگئے اور انہوں نے ممتا بنرجی کا دامن چھوڑ دیا۔انہیں یہاں غدار اس لئے قرار دیا گیا کہ انہوں نے ترنمول میں رہ کر سارا مزہ لیا اور جیسے ہی وقت خراب ہواوہ پارٹی چھوڑ کر چلے گئے۔ یہی حال کونسلروںکا بھی ہے۔یہ لوگ بھی بی جے پی اور ریتو برتو کیمپ کے قریب ہوگئے۔
اب چناﺅ سامنے ہے انہیں سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ انہیں کیا کرنا ہے۔انہیں یہ پتہ ہے کہ بی جے پی کے ٹکٹ پر یاریتو برتو کے ٹکٹ پرچناﺅ لڑتے ہیں تو ان کیضمانت ضبط ہوجائے گی۔اس لئے ایک نیا راستہ ڈھونڈ لیا ہے اب یہ لوگ آزاد امیدوارکے طور پر چناﺅ لڑیں گے ۔ اور اسکے لئے ان لوگوں نے ووٹروں کو رجھانے کےلئے روپئے کا منھ کھول دیا ہے۔ یہاں ورکرس میٹنگ میں موجود لیڈروں نے ان کی ان ہی چالاکیوں سے لوگوں کو آگاہ کیا کہ یہ لوگ چولا بدل کر آپ کے پاس آئیں گے لیکن آپ کو ہوشیار رہنا ہے۔بہر کیف آل انڈیا ترنمول کانگریس کی یہ ورکرس میٹنگ بہت شاندار اور کامیاب رہی اور لوگ ایک نئی توانائی اور جوش کے ساتھ واپس گئے۔ایسے طوفان میں بھی محمد عمران خان، ایڈوکیٹ کلام صاحب اور لالی باجی وغیرہ نے اس طرح کی شاندار میٹنگ کا اہتمام کر کے یہ ثابت کر دیا کہ چاند میں تھوڑے دنوںکے گہن ضرور لگا ہے لیکن چاند مکمل طو رپر غائب نہیں ہوا ہے۔
مٹیا برج سے ممتا ترنمول کانگریس نے اپنی انتخابی مہم شروع کر دی...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments