15 دن کے اندر واپس آ جائیں‘، پارٹی توڑنے کے باوجود ’غداروں‘ کے لیے ممتا کے دروازے کھلے!
2026 کے اسمبلی انتخابات میں اقتدار سے محروم ہونے کے بعد کئی لوگوں نے ترنمول کانگریس کا ساتھ چھوڑ دیا۔ کچھ ’باغی‘ بن کر دوسری پارٹیوں میں چلے گئے۔ ’ترنمول کانگریس‘ نام کی پارٹی کا وجود ہی ختم ہو گیا۔ اب یہ دو دھڑوں میں تقسیم ہو کر ’فٹبالر‘ اور ’لفافہ‘ انتخابی نشان کے ساتھ اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے۔ کالی گھاٹ کی قیادت والی پارٹی کا نام ’ممتا آل انڈیا ترنمول کانگریس‘ ہے، جبکہ ’غدار‘ کا خطاب پانے والے دھڑے کا نام ’ڈیموکریٹک ترنمول کانگریس‘ ہے۔
اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود ممتا بنرجی نے پارٹی چھوڑنے والوں پر اعتماد برقرار رکھا ہے۔ پارٹی تقسیم کے بعد اتوار کو پہلی ورچوئل عوامی میٹنگ میں ٹیلی فونک خطاب کے دوران ممتا نے تقریباً اپیل کرتے ہوئے کہا، ”جو لوگ واپس آنا چاہتے ہیں، 15 دن کے اندر واپس آ جائیں۔“
یہیں سے سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا کالی گھاٹ کے اندر بھی اختلافِ رائے ہے؟ ممتا کی اپنی تنظیم میں ایک گروپ پارٹی چھوڑنے والوں کو ’غدار‘ قرار دے رہا ہے، جبکہ خود ممتا چاہتی ہیں کہ وہی ’غدار‘ دوبارہ پارٹی میں واپس آئیں!
اتوار کو شمالی دیناج پور کے اسلام پور کے کملہ گاو¿ں-سوجالی گرام پنچایت علاقے میں ممتا آل انڈیا ترنمول کانگریس کی جانب سے ایک تنظیمی اجلاس کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اجلاس کے آغاز میں کالی گھاٹ ترنمول کے رکن پارلیمنٹ کلیان بندیوپادھیائے کے ذریعے فون پر ممتا بنرجی نے پارٹی کارکنوں اور حامیوں کے نام پیغام دیا۔
انہوں نے پارٹی چھوڑ کر جانے والے ترنمول کے ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی سے 15 دن کے اندر پارٹی میں واپس آنے کی اپیل کی۔ اسی کے ساتھ ممتا نے پیغام دیا کہ پارٹی میں لیڈروں کے مقابلے میں کارکن اور حامی زیادہ اہم ہیں۔ممتا نے اعتماد ظاہر کیا کہ جس طرح انہوں نے 1998 میں ایک پارٹی تشکیل دی تھی، اسی طرح وہ اب بھی پارٹی کو نئے سرے سے منظم کر سکتی ہیں۔اس کے ساتھ ہی ممتا بنرجی نے الیکشن کمیشن کو بھی نشانہ بنایا۔ ان کا الزام ہے کہ جب تک چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اپنے عہدے پر رہیں گے، بی جے پی اقتدار میں رہے گی۔
15 دن کے اندر واپس آ جائیں‘، پارٹی توڑنے کے باوجود ’غداروں‘ کے لیے ممتا کے دروازے کھلے!...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments