Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

یہ لاٹری کی دکان نہیں ہے“، درگا پوجا میں بائیں بازو کی جماعتوں کے بک اسٹال پر کلکتہ ہائی کورٹ کا اہم تبصرہ

Admin
By Admin
Oct 14, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

KOLKATA KI GERUA SAMMAN YATRA SUVENDU ADHIKARI KA SAKHT ANDAZAZ

یہ لاٹری کی دکان نہیں ہے“، درگا پوجا میں بائیں بازو کی جماعتوں کے بک اسٹال پر کلکتہ ہائی کورٹ کا اہم تبصرہ
یہ لاٹری کی دکان نہیں ہے“، درگا پوجا میں بائیں بازو کی جماعتوں کے بک اسٹال پر کلکتہ ہائی کورٹ کا اہم تبصرہ — October 14, 2026
یہ لاٹری کی دکان نہیں ہے“، درگا پوجا میں بائیں بازو کی جماعتوں کے بک اسٹال پر کلکتہ ہائی کورٹ کا اہم تبصرہ
بانگاو¿ں، نیہاٹی اور یشور کے علاقوں میں بائیں بازو کی جماعتوں کے بک اسٹال لگانے سے متعلق مقدمے میں کلکتہ ہائی کورٹ نے پولیس سے رپورٹ طلب کی ہے۔ عدالت نے ہدایت دی ہے کہ جمعرات تک اس معاملے میں رپورٹ پیش کی جائے۔ پولیس کو تفصیلی رپورٹ میں بتانا ہوگا کہ کتنے اسٹال لگائے جا رہے ہیں اور ان کی تیاری کا کام شروع ہوا ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ محکمہ تعمیراتِ عامہ (PWD) سے اجازت لی گئی ہے یا نہیں۔
آج مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس سوگت بھٹاچاریہ نے کئی اہم تبصرے کیے۔ جج نے کہا، ”اگر غباروں اور کھلونا بندوقوں کے اسٹال لگ سکتے ہیں تو کتابوں کے اسٹال کیوں نہیں لگ سکتے؟ وہاں کوئی لاٹری کی دکان تو نہیں کھولیں گے۔ کتابوں کی دکان ہی ہوگی، ہے نا؟ اس میں پریشانی کیا ہے؟“ یہ سوال کلکتہ ہائی کورٹ نے اٹھایا۔
ہر سال درگا پوجا کے دوران بائیں بازو کی جماعتیں بانگاو¿ں، نیہاٹی اور یشور کے علاقوں میں عارضی طور پر بک اسٹال لگاتی ہیں۔ تاہم، الزام ہے کہ اس مرتبہ پولیس کی جانب سے انہیں اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ اس کے برعکس، دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسی جگہ ایک دوسری تنظیم کو عارضی ڈھانچہ بنانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
اسی معاملے پر احتجاج کرتے ہوئے سی پی آئی (ایم) نے چند روز قبل عدالت سے رجوع کیا تھا۔ آج، بدھ کو جسٹس سوگت بھٹاچاریہ کی عدالت میں اس مقدمے کی سماعت ہوئی۔
سماعت کے دوران سی پی آئی (ایم) کے وکیل نے دلیل دی کہ اس علاقے میں کئی برسوں سے کتابوں کے اسٹال لگائے جاتے رہے ہیں، لیکن اچانک اس سال اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ دوسری جانب، ہندو جاگرن منچ کو اسی مقام پر کتابوں کا اسٹال لگانے کی اجازت مل گئی ہے۔
اس کے جواب میں ریاستی حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل س±رجیت ناتھ مترا نے دلائل پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ سی پی آئی (ایم) نے اسٹال لگانے کے لیے سب ڈویڑنل مجسٹریٹ (ایس ڈی او) سے درخواست کی تھی، لیکن متعلقہ زمین محکمہ? تعمیراتِ عامہ کی ہے۔ ایسے میں ایس ڈی او اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ ایڈووکیٹ جنرل نے یہ سوال اٹھایا۔
ان کا کہنا تھا کہ کتابوں کے اسٹال لگانے کے لیے محکمہ? تعمیراتِ عامہ سے اجازت طلب کی جانی چاہیے تھی۔
دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد جسٹس سوگت بھٹاچاریہ نے پولیس سے اس معاملے میں تفصیلی رپورٹ طلب کی۔ عدالت نے ہدایت دی کہ رپورٹ میں واضح کیا جائے کہ محکمہ? تعمیراتِ عامہ کی اجازت سے کون لوگ کتابوں کے اسٹال لگا رہے ہیں اور اس سلسلے میں کیا کارروائی کی گئی ہے۔

یہ لاٹری کی دکان نہیں ہے“، درگا پوجا میں بائیں بازو کی جماعتوں کے بک اسٹال پر کلکتہ ہائی کورٹ کا اہم تبصرہ...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn