50 کلو چاندی کی پالکی میں آتی ہے نوپتریکا، ایودھیا کی اس درگا پوجا کی روایت آج بھی برقرار
50 کلو چاندی کی پالکی، جس پر سوار ہوکر آج بھی نوپتریکا پورے تزک و احتشام کے ساتھ ٹھاکردالان میں داخل ہوتی ہے۔ وقت کے ساتھ نیل کی کاشت کرنے والے انگریز صاحب کی بے پناہ دولت و ثروت ختم ہو چکی ہے، جبکہ خستہ حال تاریخی کچہری کی عمارت بھی اب تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ لیکن شاہانہ شان و شوکت ماند پڑنے کے باوجود بانکوڑہ ضلع کے ایودھیا گاو¿ں میں واقع بنرجی زمیندار خاندان کی درگا پوجا کی تقریباً دو سو سال پرانی روایت پر آج بھی ذرہ برابر زنگ نہیں لگا ہے۔
تاریخ کے اوراق پلٹنے پر 1828 کا ایک دلچسپ واقعہ سامنے آتا ہے۔ اس وقت شری رام پور میں نیل کی کاشت کرنے والا ایک انگریز صاحب بسترِ مرگ پر تھا۔ بنرجی خاندان کے رام موہن بنرجی نے پوری عقیدت کے ساتھ اس کی خدمت اور دیکھ بھال کی تھی۔ موت سے پہلے شکر گزار انگریز صاحب نے انہیں بڑی مقدار میں دولت اور قیمتی جواہرات دیے۔ اس رقم کو ایودھیا بھیج کر ان کے بڑے بھائی کرشن موہن بنرجی نے مختلف موضعوں میں زمینداری قائم کی۔
ہاتھی پر سوار ہوکر رعایا سے لگان وصول کیا جاتا تھا۔ آہستہ آہستہ کچہری کی عمارت، ٹھاکردالان، ناٹ مندر، راس منچ اور قطار میں 12 شیو مندر تعمیر کیے گئے۔
محل کے اندر درگا پوجا کا آغاز خاندان کی ایک خاتون کی دل آزاری کے واقعے کے بعد ہوا تھا۔ گاو¿ں کی اجتماعی درگا پوجا دیکھنے کے لیے جانے والی زمیندار کی بیوی کو بھیڑ کی وجہ سے دیوی کی پوجا میں خلل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اسی افسوس کو دور کرنے کے لیے محل کے اندر اپنی درگا پوجا شروع کی گئی۔
آج زمینداری باقی نہیں رہی اور نہ ہی ماضی کا وہ شاہانہ رعب و دبدبہ ہے۔ پہلے بشنوپور کے ملّا راجاو¿ں کی توپوں کی آواز سن کر سندھی پوجا شروع ہوتی تھی، لیکن اب اس کا وقت پنچانگ کے مطابق مقرر ہوتا ہے۔ پوجا کے دنوں میں منعقد ہونے والے یاترا ڈراموں کے پروگرام بھی بند ہو چکے ہیں۔
اس کے باوجود قدیم رسومات میں ذرا بھی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ آج بھی چاندی کے گھڑے میں گاو¿ں کے قریب واقع تالاب سے پانی لایا جاتا ہے اور اسی پانی سے نوپتریکا کو غسل کرایا جاتا ہے۔ اس موقع پر کدو کی بلی بھی دی جاتی ہے۔
فی الحال زمیندار خاندان کے جانشینوں نے ایک ٹرسٹ قائم کیا ہے۔ باقی بچی ہوئی زمین سے ہونے والی معمولی آمدنی کے ذریعے ہی درگا پوجا کے اخراجات پورے کیے جا رہے ہیں۔
خاندان کے موجودہ رکن منوہر بنرجی کے مطابق، ”شاید ہمارے پاس دولت کی فراوانی نہیں ہے، لیکن اپنے آباو¿ اجداد کی روایت کو زندہ رکھنا ہی ہمارا بنیادی عہد ہے۔“
اسی لیے درگا پوجا کے ان چند دنوں میں ملک اور بیرونِ ملک رہنے والے خاندان کے افراد اپنے آبائی گھر واپس آتے ہیں۔ آس پاس کے گاو¿ں کے لوگوں کی بھیڑ اور پرانی عمارتوں میں گونجتی چہل پہل کے درمیان ایودھیا آج بھی اپنی پرانی شان و شوکت کی جھلک پیش کرتا ہے۔
50 کلو چاندی کی پالکی میں آتی ہے نوپتریکا، ایودھیا کی اس درگا پوجا کی روایت آج بھی برقرار...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments