چترتھی کے دن ہوڑہ کے 14 گھاٹوں پر فیری سروس بند! بقایا تنخواہ کے مطالبے پر غیر معینہ مدت کے لیے کام بند
انتباہ دینے کے بعد اب ملازمین نے فیری سروس بند کر دی ہے۔ گزشتہ دو ماہ کی بقایا تنخواہ اور درگا پوجا بونس نہ ملنے پر ہاوڑہ فیری گھاٹ میں ہوگلی ندی آبی نقل و حمل کوآپریٹو سوسائٹی کے ملازمین نے کام بند کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں چت±رتھی کے دن ہوڑہ کے تقریباً 14 گھاٹوں پر فیری سروس بند ہوگئی۔
درگا پوجا کے دوران ہاوڑہ میں ہوگلی ندی کے گھاٹوں پر کافی بھیڑ رہتی ہے۔ روزانہ سفر کرنے والوں کے ساتھ بڑی تعداد میں لوگ بھی درگا پوجا کے پنڈالوں میں دیوی درشن کے لیے نکلتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگوں کے لیے فیری سروس آمدورفت کا اہم ذریعہ ہے۔ لیکن بدھ کی دوپہر سے ہوگلی ندی آبی نقل و حمل کوآپریٹو سوسائٹی کے ملازمین غیر معینہ مدت کی ہڑتال پر چلے گئے۔ اس کے نتیجے میں پوجا کے دوران کولکاتا اور ہاوڑہ کے درمیان فیری سروس متاثر ہوگئی۔
منگل کی شام ہاوڑہ ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع فیری گھاٹ پر ہوگلی ندی آبی نقل و حمل کوآپریٹو سوسائٹی کے ملازمین نے احتجاج کیا تھا۔ ان کا الزام ہے کہ گزشتہ دو ماہ کی تنخواہ اور بونس بقایا ہے۔ درگا پوجا سے عین پہلے انہیں اپنے خاندانوں کے ساتھ شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ملازمین نے بتایا کہ متعلقہ ادارے میں تقریباً 250 افراد کام کرتے ہیں۔ وہ ہاوڑہ سے گولاباڑی، شوبھابازار، باگ بازار، چاندپال، آرمینی گھاٹ اور پرنسپ گھاٹ کے راستوں پر باقاعدگی سے فیری سروس چلاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہاوڑہ کے باو¿ڑیا اور نورپور کے آبی راستوں پر بھی خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔
بدھ سے کام بند ہونے کے باعث ہاوڑہ اسٹیشن کے ذریعے سفر کرنے والے ہزاروں مسافروں کو کولکاتا پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب، احتجاج کرنے والے ملازمین کا دعویٰ ہے کہ صرف درگا پوجا کے دوران ہی سوسائٹی کے 14 فیری گھاٹوں پر ٹکٹ فروخت کرکے کئی لاکھ روپے کی آمدنی ہوتی ہے۔ ان کے مطابق، اس رقم سے ملازمین کی بقایا تنخواہیں باآسانی ادا کی جا سکتی تھیں، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔
قابل ذکر ہے کہ ہوگلی ندی آبی نقل و حمل کوآپریٹو سوسائٹی میں منتخب انتظامی بورڈ موجود نہیں ہے۔ اس لیے فی الحال ہاوڑہ ضلع کے کوآپریٹو محکمہ کے اسسٹنٹ رجسٹرار آف کوآپریٹو سوسائٹیز (اے آر سی ایس) بطور منتظم کام کر رہے ہیں۔
منگل کو سوسائٹی کے منتخب انتظامی بورڈ کے اضافی چارج پر مامور ایک سینئر افسر نے بتایا تھا کہ کولکاتا پورٹ ٹرسٹ، ریاستی محکمہ? ٹرانسپورٹ اور ضلع پریشد کو اس سوسائٹی سے کرایے کی مد میں بڑی رقم ملتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے ان اداروں کو ادائیگی کرنا ضروری ہے، اس کے بعد ملازمین کی تنخواہیں ادا کی جائیں گی۔ تاہم، بونس کے معاملے پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا تھا۔
بدھ کو فیری سروس بند ہونے کے بعد متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
چترتھی کے دن ہوڑہ کے 14 گھاٹوں پر فیری سروس بند! بقایا تنخواہ کے مطالبے پر غیر معینہ مدت کے لیے کام بند...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments