تمام کالجوں اور یونیورسٹیوں میں قوم پرستی کا جھنڈ لہرا نا ہوگا : شوبھندو کا اعلان
مغربی بنگال کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طویل عرصے سے بند طلبہ یونین کے انتخابات اب ریاستی حکومت کرائے گی۔ جمعہ کو آر جی کر میڈیکل کالج میں سنگھ پریوار کی طلبہ تنظیم اے بی وی پی (اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد) کے میڈیکل طلبہ کے آل انڈیا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری نے یہ بات کہی۔
اے بی وی پی کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے شوبھیندو نے بتایا کہ مغربی بنگال کے انچارج اے بی وی پی مبصر سے ان کی بات ہوئی ہے۔ ترنمول کانگریس کے دورِ حکومت میں ریاست کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں کوئی انتخاب نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا، ”لیکن انتخابات ہونے چاہئیں۔ ہم سبھی طلبہ سیاست کی پیداوار ہیں۔ کالج کے انتخابات میں کلاسوں کے درمیان تقریر کرتے کرتے ہی ہم یہاں تک پہنچے ہیں۔“
اس کے بعد اے بی وی پی کے مبصر کی بات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا، ”انہوں نے مجھ سے کہا، ’اگلے سال طلبہ یونین کے انتخابات کرا دیجیے۔ تمام کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد اور قوم پرستوں کی آواز، ’وندے ماترم‘ سنائی دے گی۔“‘
جمعہ کو شوبھیندو ادھیکاری کی تقریر میں ’جادوپور یونیورسٹی‘، ’دماغی نکسل‘ اور ’آزادی‘ کے نعروں کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مرکزی حکومت ’سینٹر آف ایکسی لینس‘ جادوپور یونیورسٹی کو ایک ہزار کروڑ روپے کی مالی امداد دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا، ”جادوپور میں جلوس نکال کر ’آزادی، آزادی‘ کے نعرے لگائے جا رہے ہیں۔ کس چیز کی آزادی؟ ’کشمیر مانگے آزادی‘! کان کھول کر سن لیجیے، جس کشمیر کی سرزمین پر شیاما پرساد مکھرجی کی موت ہوئی، وہ کشمیر ہمارا ہی ہے۔ کمیونسٹوں، دماغی نکسلوں اور ملک مخالف طاقتوں کو چن چن کر ختم کرنا ہوگا۔“
انہوں نے کہا کہ نندی گرام اور ریجینگر میں بھی یہی کام کیا گیا ہے۔
تمام کالجوں اور یونیورسٹیوں میں قوم پرستی کا جھنڈ لہرا نا ہوگا : شوبھندو کا اعلان...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments